خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 27
خطبات طاہر جلد ۲ 27 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ فَاتَّقُوا اللهَ يَأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المانده: ۱۰۱) اے محمد ! ایسے لوگوں سے کہدے کہ لَا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ پاک اور بد ، صاف اور گندا ایک جیسے ہو جائیں۔خدا تعالیٰ نے جو طیب کو امتیاز بخشا ہے وہ اپنی ذات میں قائم رہتا ہے اور اس بات سے آزاد ہے کہ اکثر گندے ہیں یا اکثر پاک ہیں۔فرمایا لو أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ اے انسان! اگر تجھے کثرت کے ساتھ خباثت اور گندگی نظر آئے اور تو اس سے مرعوب ہو جائے تب بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کی نظر میں طیب اور بد کا معاملہ الٹ جائے۔بدا گر کروڑوں کروڑ بھی ہوں گے تو بدرہیں گے اور نیک اگر کروڑوں کی سوسائٹی میں ایک بھی ہو گا تو خدا کی نظر میں وہ نیک ہی رہے گا۔وہ برابر نہیں ہو سکتے۔بدیوں کے پھیلنے اور ان کو روکنے کا یہ اتنا گہرا فلسفہ ہے کہ اگر انسان اس سے واقف ہو جائے تو بہت سی بدیاں جنہوں نے سیلابوں کی طرح کناروں کو کھالیا ایسے لوگوں کی وجہ سے روکی جاسکتی تھیں جو اس بات پر اگر اٹھ کھڑے ہوتے کہ ہم تعداد میں خواہ کتنے ہی کم ہوں ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں، ہم نیکی کو پکڑ کے رہیں گے۔یہ فلسفہ بہت گہرائی کے ساتھ انسانی فطرت میں کارفرما نظر آتا ہے۔چنانچہ ووٹوں کے وقت اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ وہی کمزوری جس کا قرآن کریم نے یہاں ذکر کیا ہے وہی خاموشی کے ساتھ سر اٹھالیتی ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔دنیا میں الیکشن ہوتے ہیں تو بسا اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے لئے زیادہ ہاتھ اٹھ کھڑے ہوئے ہوں تو ایک طبقہ جو اس وقت تک خاموش بیٹھا ہوا تھا وہ بھی اپنے ہاتھ اٹھانے لگ جاتا ہے۔حالانکہ اس سے پہلے اگر انہوں نے ہاتھ نہیں اٹھائے تھے تو لا ز مادل نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ شخص طیب نہیں ہے یعنی اس نقطہ نگاہ سے طیب نہیں ہے یا اس نقطہ نگاہ سے موزوں نہیں ہے اس کے باوجود جب کثرت کو دیکھا تو ہاتھ اٹھا دیئے۔یہ کریکٹر کی کمزوری ہے جو انسان کے اندر ایک دبی ہوئی بیماری کے طور پر موجود رہتی ہے اور یہ کمزوری برائیوں کے پھیلنے میں بہت مدد دیتی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم میں سے ہر آدمی اس بات کو