خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 313
خطبات طاہر جلد ۲ 313 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء قرآن کو سمجھتے تھے ، جو قرآن کی زبان جانتے تھے، جو انہی لوگوں میں پیدا ہوئے ، ہم تو ان کے منہ کی باتیں کر رہے ہیں اپنے منہ کی باتیں تو نہیں کر رہے اس لئے لڑنا ہے تو ان لوگوں سے لڑو۔یہ ایک ایسا لمبا سلسلہ چل پڑا تھا کہ قرآن کریم کی ہر خوبی میں دشمن کو ایک نقص نظر آنے لگا اور انبیاء کی ہر پاکیزگی میں دشمن کو ایک خرابی دکھائی دینے لگی اور کلام حکیم دشمنوں کی نگاہ میں گویا کہ ایسی داستانوں کی کتاب بن گیا جن میں نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کی بدکاریاں اور ان کے گناہ اور ان کی گندگی کا اظہار کیا گیا تھا اور قیامت تک اس کو محفوظ کر دیا گیا تھا۔گویا یہ تعلیم دے رہا تھا کہ میرے پیارے تو ایسے ہوتے ہیں اور ان سے ادنیٰ درجہ کے جولوگ ہیں ان کے لئے میں کیا کچھ نہ برداشت کر جاؤں گا۔جس کو میں سچائی کے شہزادہ کے طور پر پیش کرتا ہوں، وہ تو یہ ابراہیم ہے نعوذ باللہ تین جھوٹ بولنے والا۔جو عام لوگ ہیں جو ولی بھی نہیں جو کسی اعلیٰ مقام پر فائز نہیں ہیں وہ اگر تین ہزار جھوٹ بول جائیں تو میں کیوں معاف نہیں کروں گا اس لئے اگر سچائی کا شہزادہ تین جھوٹ بولنے والا ہے تو عام انسان تین ہزار چار ہزار جھوٹ بے شک بولے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اگر میر اوہ بندہ جس کو توحید کے شہزادہ کے طور پر میں پیش کرتا ہوں جس کی اظہار تو حید کی شان مجھے بہت پسند آئی وہ ایسا تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شرک میں مبتلا ہو جایا کرتا تھا تو اے بنی نوع انسان ! تمہیں کیا فرق پڑتا ہے! اس نے اگر ستاروں چاند اور سورج کو خدا بنایا تھا تو تم زمین کے کیڑوں مکوڑوں کو اور درختوں اور جھاڑیوں کو خدا بنا لو گے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پس تفسیروں کی رو سے واقعہ ابرہیم کی ایسی بھیانک شکل بنتی ہے جس پر مستشرقین کو اعتراضات کا بہانہ مل گیا۔اور یہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں ہے۔ہر مقام پر بلا استثناء جہاں قرآن کریم میں کسی نبی کی کوئی خوبی بیان کی گئی وہیں بد قسمتی سے اس نبی میں کیڑے ڈالنے کا عذر تلاش کر لیا گیا۔حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال لیجئے جسے اللہ تعالیٰ احسن القصص کے طور پر پیش فرماتا ہے کہ دیکھو! میرا یوسف کیسا پاک تھا، کتنا عظیم الشان وجود تھا، عصمت کا شہزادہ تھا اور جتنے بھی عصمت کے واقعات گزرے ہیں ان میں سب سے پیارا واقعہ مجھے یہ پسند آیا ہے جسے میں احسن القصص کے طور پر تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں اور تفاسیر پڑھیں تو عصمت کے اس شہزادہ پر وہ ظلم کئے گئے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ مغلوب الشہوات انسان کوئی نہیں تھا اور نعوذ باللہ من ذالک اسے فخر کے طور پر