خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 176
خطبات طاہر جلد ۲ 176 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء یہ بات ثابت کر رہی ہے کہ خدا تعالی واقعی بے انتہا فضلوں والا ہے اور اس کا قانون انسانی کوششوں کو بھی کم نہیں کرتا بلکہ ان کو بڑھا کر واپس کرتا ہے۔پس یقین دلانے کی خاطر اور اعتماد پیدا کرنے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود کو پیش فرمایا کہ دیکھو! دیکھو! میں وہی تو ہوں جو مومن و کافر دونوں سے اپنے فضلوں کا معاملہ کرتا ہوں، پھر کتنے جاہل ہوں گے وہ لوگ جو مومن ہو کر مجھ پر بدظنی کرنے لگیں کہ وہ خدا جس کا فضل ساری دنیا پر عام ہے وہ اپنے خاص بندوں سے ایسا ظالمانہ سلوک کرے گا کہ وہ خدا کی خاطر قربانیاں دیں اور اس کے باوجود وہ ان کو غریب کرتا چلا جائے۔فرمایا یہ بھی نہیں ہوسکتا۔يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ اس سے زیادہ مومن بندوں سے سلوک کیا جائے گا۔جو خدا کے بندے ہیں ان پر دنیا کا قانون جاری نہیں ہوگا بلکہ ان سے بہت بڑھ کر معاملہ ہوگا۔وہ خدا کی راہ میں جو قربانیاں دیں گے اور ان پر خدا کے جو فضل نازل ہوں گے ان میں آپس میں کوئی نسبت نہیں ہوگی۔غرض وہ سارا مالی نظام جس کی رو سے خدا کے نام پر خواہ جماعت کو دیا جاتا ہے خواہ غربا پر خرچ کیا جاتا ہے وہ سب اس آیت کے تابع ہے۔اس کے دوسرے پہلو کے لحاظ سے یہ دیکھنا باقی ہے کہ عام دنیا کا جو مالی نظام ہے اس کے متعلق اسلام کیا تصور پیش کرتا ہے۔اس بارہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، اسلام کہتا ہے کہ تمہارے روپے میں براہ راست بڑھنے کی طاقت نہیں اور یہ امر واقعہ ہے کہ تم رو پی دے کر خود اس کی ذمہ داری سے آزاد ہونے کے بعد یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ روپیہ بڑھے گا۔پھر کیا چیز سامنے آئے گی وہ میں مختصر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ظاہر ہے اس کے نتیجہ میں دوہی باتیں سامنے آ سکتی ہیں۔یا تو ہر انسان اپنے سرمایہ کو کچھ نہ کچھ اپنی سمجھ اور فہم کے مطابق استعمال کرنے کے بارہ میں سوچنا شروع کر دے اس نے جو بھی پس انداز کیا ہے وہ اس کے متعلق سوچے کہ میں اس کو کس طرح بہتر رنگ میں استعمال کروں ورنہ اگر میں استعمال نہیں کروں گا تو اس نے اڑھائی فیصد کم ہو جانا ہے۔یہ منفی طور پر کام کرنے والی قوت اس شخص کو مجبور کرے گی کہ وہ لازماً اپنے روپے کو کسی ایسے مصرف میں لے کر آئے کہ وہ کم نہ ہو۔اور چونکہ دنیا میں اکثر لوگ یہ صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے ایسا شخص مجبور ہوگا کہ وہ کسی با صلاحیت انسان کو تلاش کرے اور چونکہ کوئی قانون اس بات میں اس کی حفاظت نہیں کرے گا کہ دیا ہوار و پید ا ز ما بڑھ جائے اس لئے