خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد ۲ 89 99 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء اس کی حکمت یہ ہے کہ يَسْتَوى تَستَوِی کا محاورہ بعض دفعہ مقابلہ کے لئے آتا ہے، بعض دفعہ بغیر مقابلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔یہ محاورہ ایک جماعت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور شخص واحد کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس میں مقابلہ یا موازنہ مقصود نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے متعلق قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف: ۵۵) پھر وہ عرش پر استویٰ پکڑ گیا۔اور بھی کئی جگہ انہی معنوں میں استـوى، يستـوی کا استعمال ہوا ہے جن میں مقابلہ مقصود ہی نہیں اور اس کے معنی کچھ اور بن جاتے ہیں۔پس لاتستوى الحسنۃ بھی اپنی ذات میں ایک مکمل اعلان ہے اور لا تستوى السيئة بھی اپنی ذات میں ایک مکمل اعلان ہے جیسا کہ فرمایا لَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ دراصل یہاں دو الگ الگ اعلان ہورہے ہیں اس لئے یہاں عربی لغت کے مطابق استویٰ کا معنی یہ بنے گا کہ نہ تو نیکی کو قرار ہے نہ بدی کو قرار ہے۔دونوں اپنی ذات میں Stable یعنی مستحکم نہیں ہیں۔یہ بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہیں۔ان دونوں کے درمیان ہر وقت ایک مقابلہ جاری ہے۔مثلاً وہ نیکی جس کی تم حفاظت نہ کرو اور جس کو بڑھانے کی کوشش نہ کرو اس کے متعلق اگر تم یہ خیال کرو کہ یہ استویٰ کر رہی ہے یعنی وہ اپنے مقام پر ٹھہری رہے گی اور اس کا نقصان نہیں ہوگا تو یہ غلط فہمی ہے، اس کو دل سے نکال دو۔اسی طرح یہ خیال بھی دل سے نکال دو کہ بدی اگر تمہاری طاقت سے کمزور پڑ گئی ہے تو وہ دوبارہ سر نہیں اٹھا سکتی۔قانون قدرت ایسا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک مجادلہ، ایک جہاد ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔نہ تو حسن کو قرار ہے نہ بدصورتی کو قرار ہے نہ خوبی کو قرار ہے نہ بدی کو قرار ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم بیان کرنا چاہتا ہے اور چونکہ جہاد کا مضمون چل رہا ہے اس لئے اس موز ونیت سے یہی مضمون ہونا چاہئے۔چنانچہ معا بعد صرف جہاد کی طرف لوٹتا ہے۔فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اب تمہارا مقابلہ ہو گا۔جب تم دنیا کو نیک کاموں کی طرف بلاؤ گے تو تمہارا مقابلہ شروع ہو جائے گا۔یادرکھو یہ مقابلہ تمہارے لئے بہتر ہے۔تم جب تک جہاد میں مصروف رہو گے تمہاراحسن بھی بڑھتا چلا جائے گا اور مقابل کی بدیاں گھٹتی چلی جائیں گی۔جب تم جہاد سے غافل ہو جاؤ گے تو تمہارے اندرونی حسن کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ۔