خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 77

خطبات طاہر جلد ۲ 77 خطبہ جمعہ اار فروری ۱۹۸۳ء بڑے توانا، ٹیم شیم اور بڑے جنگجو انسان ہیں۔مجھے بتاؤ کہ تم نے انہیں کس طرح قابو کیا ؟ تو ابو الیسر نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں نے کہاں قابو کیا تھا؟ ایک بڑا مضبوط اور طاقتور آدمی آیا تھا جس نے ان کو پکڑا، قابو کیا اور باندھ کر میرے سپرد کر دیا۔اس طرح میں ان کو لے کر آ گیا ہوں میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذرا اس کی نشانیاں تو بتاؤ کہ وہ کس قسم کا آدمی تھا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نہ میں نے کبھی پہلے دیکھا اور نہ بعد میں دیکھا ہاں اس کی علامتیں یہ تھیں۔تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لَقَدْ اَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ کہ ایک ملک کریم نے تمہاری مدد کی تھی۔ایک معزز فرشتہ تھا جسے خدا تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے بھیجا تھا۔الخصائص الکبری جز اول صفحہ ۲۰۲- تاریخ الخمیس لطیفہ فی استماع الطبل ببد رکطبل الملوک جلد اول صفحه ۳۹۰) پس واقعۂ فرشتے تمثل بھی اختیار کر لیتے ہیں اور بظاہر انسان کی شکل میں نظر آتے ہیں۔جیسا کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا: فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ( مریم : ۱۸) کہ فرشتے نے حضرت مریم کے لئے ایک نہایت ہی خوبصورت اور متوازن جسم والے انسان کا روپ دھارا اور ان پر ظاہر ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں مختلف وقتوں میں صحابہ نے بھی ایسے نظارے دیکھے۔چنانچہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے تو ایک اجنبی مجلس میں حاضر ہوا اس نے السلام علیکم کہا اور کچھ سوالات کئے اور پھر حضور سے اجازت لے کر رخصت ہوا۔صحابہ بہت متعجب ہوئے کیونکہ وہ باہر سے آیا تھا لیکن اس کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہیں تھے ، نہ ہی کس قسم کی گرد تھی یعنی سفر کی کوئی علامتیں نہیں تھیں۔نہایت صاف ستھرے اور پاکیزہ کپڑے پہنے ہوئے تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کے تعجب کو دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا تم جانتے ہو یہ کون تھا؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہمیں تو کوئی علم نہیں۔آپ نے فرمایا یہ جبرئیل تھا جو تمہیں تعلیم دینے کی خاطر مجھ سے سوال کر رہا تھا۔چنانچہ بعض صحابہ باہر نکلے اور دور تک گلیوں میں دیکھتے رہے لیکن کسی انسان کا کوئی نشان نہیں ملا۔( صحیح بخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی م عن الایمان والاسلام والاحسان) پس جب ایک دفعہ یہ فرشتے صحابہ پر نازل ہوئے تو پھر یہ سلسلہ جاری رہا اور انہوں نے