خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد ۲ 69 69 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء حضرت صاحبزادہ صاحب کے سر کے اوپر پتھروں کا ایک ڈھیر بن گیا جس میں یہ وجود غائب ہو گیا۔یہ وہ واقعہ ہے جسے بعض غیروں نے بھی دیکھا اور مدتوں اس کی کسک ان کے دل میں رہی چنانچہ ایک انگریز چیف انجینئر نے جو انگلستان سے آیا ہوا تھا اور اس موقع پر موجود تھا، اپنی کتاب میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ اس مرد مجاہد کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا۔اس نے وفات سے پہلے کہا کہ اے قوم ! تم ایک معصوم انسان کو مار رہے ہو لیکن یاد رکھو کہ خدا تمہیں اس کا خون نہیں بخشے گا اور بلائیں اور مصیبتیں تمہیں گھیر لیں گی۔اس انگریز مصنف کے قول کے مطابق یہ وہ آخری اعلان تھا جو حضرت صاحبزادہ صاحب شہید نے کیا اور اس کے بعد پتھراؤ شروع ہو گیا۔پھر اسی سرزمین پر حضرت صاحبزادہ نعمت اللہ صاحب شہید آپ کی پیروی میں آئے۔وہ جانتے تھے کہ دعویٰ ایمان کے نتیجے میں انسان کو کیا کیا مصیبتیں سہنی پڑتی ہیں اور مصائب کے کن کن رستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی یاد ان کے ذہن اور دل میں تازہ تھی اس کے باوجود انہوں نے وہی نمونہ دکھایا جو اس سے پہلے ایک مرد مجاہد نے دکھایا اور کوئی پرواہ نہیں کی۔قید کی حالت میں انہوں نے ایک خط لکھا جو کسی ذریعے سے ایک احمدی دوست تک پہنچ گیا اور وہ محفوظ کر لیا گیا۔اس خط میں وہ لکھتے ہیں کہ : ” مجھ سے خدا کا عجیب سلوک ہے کہ روزن بند ہے اور دن کے وقت بھی رات کی تاریکی ہے مگر جوں جوں اندھیرا بڑھتا ہے میرا رب میرے دل کو روشن تر کرتا چلا جاتا ہے اور ایک عجیب نور کی حالت میں میرا وقت بسر ہو رہا ہے۔“ (الفضل قادیان، ۹ را گست ۱۹۲۴) ان کو جب اس قید خانے سے نکال کر حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی طرح گلیوں میں پھر ایا گیا اور طعن و تشنیع کی گئی اور مذاق اڑایا گیا تو اس وقت بھی باہر کا ایک گواہ تھا جو مشہور اخبار ڈیلی میل انگلستان کا نمائندہ تھا۔اس نمائندے نے اس ذکر کو زندہ رکھنے کے لئے ایک ایسا بیان دیا جو تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور جسے اس زمانے کے ”ڈیلی میل میں شائع کیا گیا۔وہ کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ باوجود اس کے کہ اس شخص پر انتہائی ذلت پھینکی جارہی تھی اور اسے گالیاں اور تکلیفیں دی جارہی تھیں، وہ کابل کی گلیوں میں پابجولاں پھرتا ہوا ایک آہنی عزم کے ساتھ مسکرارہا تھا۔اس کی