خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 66

خطبات طاہر جلد ۲ 99 66 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء ہو اور سمجھتے ہو کہ وہی تمہارے رزق کا انتظام کرتا ہے اور وہی تمہیں بچاتا ہے تو تمہاری اندرونی قربانی کافی نہیں ، ہم بھی کچھ حصہ ڈالیں گے۔یعنی کچھ تمہاری دوکانیں ہم لوٹیں گے، کچھ تمہاری جائیدادیں ہم برباد کریں گے، کچھ جائز ورثوں سے تمہیں ہم محروم کر دیں گے، کچھ جائز تر قیات سے تمہیں ہم عاری کردیں گے اور ان کے رستے میں روکیں کھڑی کر دیں گے، کچھ حصول تعلیم کے حق تم سے چھین لیں گے اور وہ تعلیم جو تمہارے رزق کا ذریعہ ہے ، ہم حتی المقدور کوشش کریں گے کہ تم اس تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھا سکو۔غرض یہ کہ ہر قسم کی مشکلات جو رزق کے حصول کے رستے میں حائل کی جاسکتی ہیں وہ تمہاری راہ میں حائل کریں گے پھر دیکھیں گے کہ تم کس شان کے ساتھ اور کس یقین کے ساتھ ربنا الله کہتے ہو۔یہ استقامت کا دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔استقامت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز ایسی حالت میں بھی کھڑی رہے کہ جب اس کے کھڑے رہنے کی راہ میں روکیں ہوں اور اس کو ہر طرف سے دھکے پڑرہے ہوں۔ویسے تو کوئی چیز کھڑی ہو تو اس کے لئے کام کا لفظ بولتے ہیں۔درخت کھڑے ہیں ان کی اس حالت کے متعلق بھی قام کا لفظ استعمال کریں گے۔انسان کھڑا ہوتو وہ بھی کام کی حالت میں ہوتا ہے لیکن شدید آندھی میں بھی جو درخت قائم رہ جائے اس کے متعلق انتقام کا لفظ استعمال کریں گے۔اسی طرح شدید زلازل میں بھی کوئی عمارت نہایت شان کے ساتھ سر بلند کھڑی رہے اور سرنگوں نہ ہو ، اس کے متعلق بھی اِسْتَقَامَ کا لفظ بولیں گے۔اسی طرح شدید مشکلات اور مصائب میں کوئی انسان اپنے موقف پر قائم رہے اور ایک انچ بھی اس سے انحراف نہ کرے اس کے متعلق بھی اِستَقَامَ کا لفظ ہی استعمال کریں گے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کے ابتلا ان لوگوں پر عائد کئے جاتے ہیں جو ربنا اللہ کا دعویٰ کرتے ہیں۔تقدیر خداوندی کی طرف سے ان کے امتحانات لئے جاتے ہیں۔ان پر ایسے اندرونی اور بیرونی ابتلا آتے ہیں جو حد کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اسْتَقَامُوا کہ کوئی مصیبت کوئی زلزلہ، کوئی قیامت ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں پیدا کرسکتی ،کوئی چیز ان کو اس راہ سے ہٹا نہیں سکتی جس پر یہ گامزن ہوتے ہیں اور اسی لیے ان کی راہ کا نام بھی مستقیم رکھا گیا اور مستقیم راہ پر قائم رہنے کے لئے یہ دعا سکھائی گئی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کے بعد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ