خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 641

خطبات طاہر جلد ۲ 641 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء کھا کر اس کا بچا ہوا حصہ سڑک پر پھینک دینا یہ بھی تکلیف کا موجب بنتا ہے۔پس ایسی کوئی بھی چیز جو نظر کو تکلیف دے یا جسم کو تکلیف دے وہ اول تو سڑکوں پر پھینکنی نہیں چاہئے اور اگر نظر آئے تو اس کو دور کر دینا چاہئے۔ہاتھ سے اٹھا کر ایک طرف کر دیں یا وہاں سے ہٹا دیں یا پاؤں کی ٹھوکر سے ہی ایک طرف کر دیں۔بازاروں کے حقوق سے تعلق رکھنے والا تیسرا پہلو یہ ہے کہ وہاں اونچی آواز میں ایسا کلام نہ کیا جائے جور بوہ کے معاشرہ کے خلاف ہو اور کسی رنگ میں بھی کسی کی سمع خراشی کا موجب بنے۔آواز میں دھیمی رکھنی چاہئیں اور خصوصاً ایسا کلام نہیں کرنا چاہئے جس سے کسی طرح کی سمع خراشی ہو یا اسلامی تہذیب کے خلاف ہو۔آج مشرقی ملکوں کے بہت سے بازاروں میں فحش کلامی کی آواز میں سنائی دیتی ہیں۔خصوصیت کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان میں یہ مرض بہت گہرا ہے۔بہت سے مشرقی ممالک ہیں جو اس سے پاک ہیں لیکن پتہ نہیں کیا بدقسمتی ہے کہ روز مرہ کی گفتگو میں گالی دینا یہ ہندوستان اور پاکستان کی تہذیب کا ایک حصہ بنا ہوا ہے اور گلیوں میں لوگ ایک دوسرے کے ماں باپ کو نہایت ہی گندی گالیاں دیتے ہیں بلکہ ہل چلانے والے بیل کے ماں باپ کو بھی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور گدھے چرانے والے گدھے کے ماں باپ کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور بچے اپنے ماں باپ کو ماں باپ کی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔یہ ایک ایسی گندی تہذیب ہے جس کا مذہب کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔اور پھر مذہب بھی اسلام ، اس کی طرف منسوب ہونے والوں پر تو یہ ایک نہایت ہی گندہ داغ ہے اس لئے ربوہ کو اس داغ سے پاک رکھیں اور ہرگز اس قسم کا کوئی کلام نہ کریں جو فحشا میں داخل ہوتا ہو اور اگر کوئی بے احتیاطی کرتا ہے تو اسے پیار اور محبت سے سمجھائیں۔عموماً ایسی باتیں ہونی چاہئیں جن میں ذکر الہی ہو ، آنحضرت ﷺ کا پاک ذکر ہو، حمد باری ہو، درود ہو، ایسی باتیں ہوں جن کی خوشبو سے بازار مہکنے لگیں۔ذکر الہی کی خوشبو بازاروں میں ہر سو پھیل جائے۔پس گفتگو کو عموماً پاک اور صاف رکھیں۔اگر کوئی ایسے موقعوں پر باہر سے آنے والا بد کلامی کرتا ہے خصوصار بوہ میں کئی لوگ عمداً شرارت کی نیت سے آ جاتے ہیں اور کھلم کھلا بد کلامی کرتے ہیں ان کا جواب تو وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دے چکے ہیں کہ گالیاں سن کر دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۵)