خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 35
خطبات طاہر جلد ۲ 35 خطبه جمعه ۱۴؍ جنوری ۱۹۸۳ء پس گناہوں کے تجزیے بھی خوب مکمل کئے۔ہر بیماری کی خبر دی، بیماریوں کے حد سے بڑھنے کی اطلاع بھی دی اور پھر بیماریوں کے اس گھیرے کو توڑنے کی ترکیب بھی بتادی کہ غفور رحیم خدا سے تعلق جوڑ لو، اس سے محبت کرو، اس سے پیار کرو اور جب بھی تمہیں سچی توبہ کی توفیق ملے تو تم اس بات کا یقین کر لینا کہ تمہاری تمام بدیاں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ ان کو اس طرح زائل کر سکتا ہے کہ گویا کبھی موجود ہی نہ تھیں۔احادیث میں بھی ہمیں اس کی بہت تفاصیل ملتی ہیں۔آنحضرت عل اس مضمون کو مختلف رنگ میں مختلف واقعات کی شکلوں میں بیان فرماتے ہیں۔کبھی مثال دیتے ہیں ایک ایسی فاحشہ کی جو تمام عمر بدیوں اور گندگیوں میں مبتلا رہی، اس کے جسم کا ذرہ ذرہ داغدار تھا لیکن ایک صحرا سے گزرتے ہوئے اس کی نظر ایک ایسے کتے پر پڑی جو پیاس سے بلک رہا تھا ، اسکی زبان پیاس کی وجہ سے سوکھ کر باہر نکلی ہوئی تھی ، پاس ہی ایک کنواں تھا لیکن کتے کے بس میں نہیں تھا کہ وہ کنویں سے پانی پی لے اور وہاں کوئی ڈول نہیں تھا۔اس فاحشہ نے اپنے کپڑے جو بھی وہ اتار سکتی تھی وہ اتار کر رہی بنائی۔اپنی جوتی کو کنویں میں لٹکایا اور اس وقت تک تھوڑا تھوڑا پانی نکالتی رہی جس وقت تک کتے کی پیاس نہیں بجھ گئی۔آنحضرت علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو اس پیار سے دیکھا کہ اسکی ساری عمر کے گناہ معاف فرما دیئے اور اس کو جنت میں داخل فرما دیا۔( صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حديث الغار) إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا گناہوں کے پہاڑ بھی ہوں تو وہ ان کو معاف فرماسکتا ہے۔پھر آنحضور عملہ مختلف رنگ میں اور بھی بڑے دلچسپ واقعات بیان کر کے ان کے مختلف پہلوانسان کے سامنے رکھتے ہیں تا کہ اس کے دل میں خدا کی خشیت بھی پیدا ہو اور اس سے محبت بھی پیدا ہو اور اس کو کسی بہانے سے مغفرت کے سامان نصیب ہو جائیں۔آنحضور ﷺ کو بنی نوع انسان سے اتنا پیار اور اتنی ہمدردی ہے کہ بعض دفعہ ایسی جذباتی باتیں بیان فرماتے ہیں کہ گو یا اللہ مجبور ہو جائے ان جذباتی باتوں کو سن کر کہ چلو معاف ہی کر دو۔پس ٹھیک ہے کہ خدا سے بخشش اور معافی مانگنے کے طریق سکھائے گئے ہیں۔ایک موقع پر آپ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو بالآخر ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد