خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 81

خطبات طاہر جلد ۲ 81 خطبه جمعه ۱ / فروری ۱۹۸۳ء انڈونیشیا کی تاریخ کا یہ ایک درخشندہ واقعہ ہے کہ وہ آگ بڑھتی رہی اور اس نے سارے مکان جلا دیئے لیکن جب اس کے شعلے مولوی صاحب کے مکان کو چھونے لگے تو اچانک اتنی موسلا دھار بارش آئی کہ دیکھتے دیکھتے وہ شعلے بھسم ہو گئے اور آگ مکان کو ذرا سا نقصان بھی نہ پہنچا سکی۔وہ آگ جو دوسری چیزوں کو بھسم کرتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے پانی کے نتیجے میں خود بھسم ہو گئی۔پس فرشتوں کا یہ نزول بھی ہم نے دیکھا جو دلوں میں داخل ہو جاتے اور وہاں بیٹھ رہتے ہیں اور ایسا ثبات قدم عطا کرتے ہیں کہ پھر گو یا فرشتہ وہ ہو جاتا ہے جو بات کرنے والا ہے اور فر شتے اس کی متابعت کرتے ہیں اور اللہ کی تقدیر انہیں پابند کر دیتی ہے کہ میرے ان بندوں کے قول کو سچا کر کے دکھانا۔فرشتوں کے اس قسم کے نزول کے بے شمار واقعات ہیں جو بڑے ہی عظیم الشان اور دلچسپ ہیں اور احمدیت کی تاریخ کا بہت قیمتی سرمایہ ہیں۔میں نے چند سال پہلے ایسے واقعات اکٹھے کرنے شروع کئے تھے ، آج ان میں سے دو واقعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔کسی ملک میں کسی گاؤں میں ایک احمدی خاتون تھیں ان کے تین یا چار بچے تھے جو مختلف عمروں کے تھے اور قریباً جوان تھے۔اگر چہ گاؤں میں صرف یہی ایک گھر احمدیوں کا تھا لیکن یہ ایسا خاندان تھا جس کے گاؤں والوں پر بڑے احسانات تھے، بڑا معزز اور کریم گھرانہ شمار ہوتا تھا۔ان احسانات کی وجہ سے گاؤں والوں کی نظریں ہمیشہ اس خاندان کے لوگوں کے سامنے نیچی رہتیں۔اس لئے گاؤں والوں کی طرف سے انہیں کوئی خطرہ نہیں تھا ان کی شرافت ان کے ارد گرد پہرہ دے رہی تھی لیکن جب باہر سے حملہ ہوا اور ایک جتھہ آیا تو گاؤں والوں نے اپنی پناہ واپس لے لی۔انہوں نے کہا کہ اس حملے کے مقابلے کی ہم میں طاقت نہیں ہے اس لئے تم یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو اور جہاں بھی پناہ مل سکتی ہے وہاں چلے جاؤ۔اس احمدی خاتون نے کہا کیسا فرار؟ اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خدا کے خلیفہ کی آواز میرے کانوں تک پہنچی ہے کہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہو اور وہاں سے باہر نہیں جانا اس لئے اگر میرے سارے بچے بھی قربان ہو جائیں تب بھی میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔پھر اس نے ایک عجیب حرکت کی ، جس دن حملے کا خطرہ تھا یعنی یہ اطلاع تھی کہ جتھہ حملہ کرے گا، اس صبح اس نے اپنے بچوں کو بہترین کپڑے پہنائے جو عید یا شادی بیاہ کے موقع پر