خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 70
خطبات طاہر جلد ۲ 70 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء روح ایسی غیر مفتوح اور ناقابل تسخیر تھی کہ اس کا نظارہ کبھی بھلایا نہیں جاسکتا اسی حالت میں اس کو اس مقام پر لے جایا گیا جہاں اس کو سنگسار کرنا تھا اور ہمارے سامنے پتھر بر سے لیکن اس نے اف تک نہ کی۔ہاں ، پتھراؤ سے پہلے صرف یہ خواہش کی کہ مجھے دو نفل پڑھنے کی اجازت دی جائے اور اس طرح انہوں نے دو نفلوں کے ساتھ ان مسلمان مجاہدین کی یاد کو پھر زندہ کیا جنہوں نے آنحضور ﷺ کے زمانے میں اسی شان کے ساتھ شہادت پائی تھی۔چنانچہ کا بل کی سرزمین پر انہوں نے دو نفل پڑھے اور اس کے بعد ان کو بھی حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی طرح زمین میں گاڑ دیا گیا اور پھر پتھراؤ کیا گیا۔تاریخ احمدیت اس دور سے گزر رہی ہے اور بن رہی ہے اور بنتی رہے گی اور انشاء اللہ تعالیٰ احمدی کبھی بھی اپنے ایمان کی صداقت پر حرف نہیں آنے دیں گے۔ان کی آواز ہمیشہ یہی رہے گی اور صرف صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی آواز نہیں ہوگی بلکہ ہزاروں ، لاکھوں، کروڑوں آواز میں بن کے وہ آواز گونجتی رہے گی کہ یہ زندگی کیا چیز ہے، یہ اموال کیا چیز ہیں اور ان اولادوں کی کیا قیمت ہے؟ تم نے جو کرنا ہے کرو اور کر گز رو۔ہم اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں گے۔یہ ہیں وہ لوگ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اسْتَقَامُوا انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ ہمارا رب ہے۔کتنا پیارا دعویٰ ہے، کتنا پاکیزہ دعوی ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس دعوی کے بعد کوئی قوم ان سے نفرت کرنے لگے، ان سے حقارت کا سلوک کرے، ان کے امول لوٹے ، اور ان کی جانیں لے لیکن فرماتا ہے کہ تم سے یہی سلوک ہوگا۔ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر جو لوگ استقامت اختیار کریں گے ان کے ساتھ میرا بھی ایک سلوک ہوگا اوروہ یہ کہ تنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ کثرت کے ساتھ ان پر فرشتے نازل ہوں گے یہ کہتے ہوئے اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا کر تم کوئی خوف نہ کرو اور کوئی غم نہ کھاؤ، ہم تمہیں اس جنت کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔نَحْنُ أَوْ لِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ہم اس دنیا میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی رہیں گے۔وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىَ اَنْفُسُكُمْ اور تمہارے لئے اس جنت میں جس کی خوشخبری لے کر ہم آئے ہیں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہتے ہیں وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ اور وہ کچھ ہے جس کا تم ادعا کرتے ہو، جو تمہارا مطلوب اور مقصود ہے۔