خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد ۲ 32 32 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء ساتھ وہ سوچتا ہے اس کے احکامات جسم کو صادر ہو رہے ہوتے ہیں۔جس طرح بعض دفعہ سائنسدان تجربے کی چیزوں میں ایسی نالیاں رکھتے ہیں جہاں سے ایک مواد ایک خاص حالت کے بعد گزرتا ہے تو وہ اس کی نگرانی کر سکتے ہیں کہ کس حالت میں گزر رہا ہے۔اس کا رنگ، اس کا Flow ، اس کی Volume وغیرہ یہ چیزیں ٹھیک ہیں یا نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تمہارے ہر ارادہ اور ہر فعل کے درمیان بیٹھے ہوئے ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں کہ تمہارا کوئی ارادہ فعل میں تبدیل ہورہا ہو اور خدا کے علم سے باہر رہ جائے اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہ کا یہ مطلب ہے۔پس تمہاری یہ بے خوفی تو بے حقیقت ہو گئی۔اور اگر تم اس وجہ سے بیٹھے ہو اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نصیحتیں رد کر رہے ہو تو پھر یہ غلط نہی دل سے نکال دو۔اور ساتھ ہی فرما دی وَ أَنَّةَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ جہاں تک اس وہم کا تعلق ہے کہ اگر پتہ لگ بھی جائے گا تو کوئی فرق نہیں پڑتا میں بیچ کر کہیں بھاگ جاؤں گا تو فرمایا خدا سے بیچ کر تو کوئی نہیں بھاگ سکتا۔آخر تم پکڑے پکڑائے وہیں پہنچو گے۔اسی سرکار میں تم نے حاضر ہونا ہے۔کائنات کی کوئی چیز اس سے بچ نہیں سکتی۔تم جہاں بھی جاؤ گے وہاں خدا کو پاؤ گے۔میں نے پہلے بھی ایک واقعہ سنایا تھا۔لاہورہی کے ایک مخبوط الحواس شخص کا واقعہ ہے اور وہ اس مضمون پر ایک خاص رنگ میں روشنی ڈالتا ہے اس لئے میں اس کو پھر بیان کرتا ہوں۔کہتے ہیں کہ لاہور میں ایک نیم مجذوب دیوانہ سا آدمی اپنے خیالات میں مست پھرا کرتا تھا۔ایک دن اس نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ آج بہت مزہ آیا۔کسی نے پوچھا کس بات کا مزہ آیا۔اس نے کہا مزہ یہ ہے کہ میں نے اللہ کو خوب بتا دیا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ مجھے تیری دنیا پسند نہیں آئی اور یہ کہہ کر دل ہی دل میں موجیں لوٹ رہا تھا کہ دیکھو میں نے خدا کو کیسی بات کہہ دی کہ مجھے تیری دنیا پسند نہیں آئی۔دوسرے تیسرے دن اس کو دیکھا گیا کہ سر نیچے کیا ہوا ہے، غم میں ڈوبا ہوا ہے اور بے چارے کا برا حال ہے تو اسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ بابا! آپ دو چار دن پہلے تو بڑے خوش تھے، اب آپ کو کیا ہو گیا اتنے اداس کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا جواب آگیا ہے اور جواب یہ آیا ہے کہ پھر جس کی دنیا پسند آئی ہے وہاں چلے جاؤ۔خدا کے سوا د نیا ہی کسی کی نہیں۔اس لئے پسند کر دیا نہ پسند کرو۔طوعاً و کرھا تمہیں اپنے رب سے راضی رہنا پڑے گا اور لا ز ما تم اسی کے حضور پہنچو گے۔ایسی کوئی جگہ نہیں ہے کہ تم کسی ملک کا بارڈر کراس کر کے اس سے بچ جاؤ۔تم خواہ کسی رنگ کو اختیار کرو کسی بھیس کو تبدیل کر لو تم نے ہر حال میں بالآخر اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔