خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 90
خطبات طاہر جلد ۲ 90 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء پھر قانون کیا ہوا۔فرمایا اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ جب بھی مقابلہ ہو تو یہ بات یاد رکھنا کہ بدی کے مقابل پر صرف حسن پیش نہیں کرنا بلکہ بہترین حسن پیش کرنا ہے۔ایسا حسن کہ جس سے بہتر اور حسین تصور ممکن نہ ہو۔وہ بات نکالو جو بہترین ہو اور اس سے بدی کا مقابلہ کرو۔یہ جو احسن دلیل کے ساتھ مد مقابل سے مجادلہ کا سوال ہے یہ بھی دو طرح سے جاری ہوتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں اس سے پہلے داعی الی اللہ کے متعلق فرمایا کہ وہ بلاتا بھی ہے اور نیک عمل بھی کرتا ہے۔پس اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا اطلاق بلانے کی طرف بھی ہوگا اور نیک اعمال کی طرف بھی ہو گا۔گویا ان معنوں میں یہ بات بنے گی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ جب تمہارا دوسروں کے ساتھ قول میں مقابلہ ہو تو احسن قول سامنے پیش کرو ، جب تمہارا اعمال میں مقابلہ ہو تو احسن عمل مقابل پر پیش کرو۔جہاں تک احسن قول کا تعلق ہے، پھر آگے اس کی شاخیں بنتی ہیں۔مثلاً اگر ایک دشمن گالیاں دیتا ہے، بد زبانی سے کام لیتا ہے تو اس موقع پر یہ آیت یہ تعلیم دے رہی ہے کہ اس کے مقابل پر تم نے بدزبانی نہیں کرنی تم نے گندہ دہنی سے کام نہیں لینا کیونکہ اس لڑائی کے جو اسلوب مسلمان کو بتائے جار ہے ہیں ان میں یہ بات داخل ہی نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیا جائے۔مراد یہ ہے کہ اگر تم اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہو جو ان آیات کے آخر پر بیان ہوا ہے تو پھر تمہیں اس اسلوب جنگ کو اختیار کرنا پڑے گا۔جہاں تم اس کو چھوڑ دو گے تو پھر نتائج کے ذمہ دار تم ہو گے۔پھر نہ قرآن ذمہ دار ہے نہ وہ ذمہ دار ہے جس نے قرآن کریم کو نازل فرمایا۔پس احسن قول میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر قسم کی گندہ دہنی ، گالی گلوچ اور ایذا رسانی کے مقابل پر اچھی بات کہنا سیکھو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۲۲۵) یہ ہے قول میں بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا ایک عملی نمونہ۔اس کا دوسرا پہلو مجادلہ سے تعلق رکھتا ہے۔جب دلائل کی جنگ شروع ہو تو پہلے کمزور دلائل