خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 88

خطبات طاہر جلد ۲ 88 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۳ء اس سلوک کے بعد اللہ ان سے کیا سلوک کرتا ہے اور ایسے ہر قسم کے حالات سے دوچار ہو کر اور ان میں سے گزرنے کے بعد پھر وہ پہلے سے زیادہ داعی الی اللہ بن کر ابھرتے ہیں۔ یہ وہ مضمون تھا جو میں نے قرآن کریم کی روشنی میں بیان کیا تھا اور میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ اس مضمون کا آغاز صرف ذاتی اور انفرادی ایمان سے ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوْا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا کہ وہ لوگ جو خود اپنی ذات کے لئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے لیکن اس اعلان کے بعد جب ان کو مصائب سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو پھر وہ اس اعلان سے پیچھے ہٹنے کی بجائے داعی الی اللہ بن جاتے ہیں۔ یعنی دوسروں کو بھی بلانے لگتے ہیں کہ تم بھی اسی رب کی طرف آجاؤ جو ہمارا رب ہے۔ یہ وہ مضمون ہے جو میں نے گذشتہ تین خطبات میں بیان کیا تھا۔ اب اس اعلان کے بعد ا پیدا ہونے والے نتائج سے متعلق کچھ کہوں گا۔ قرآن کریم داعی الی اللہ کو اس کے مستقبل کے حالات سے بھی باخبر رکھتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں ( یہ موقع ہو یا کوئی اور موقع ہو ) جہاں حکم کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالی ذمہ داریوں سے آگاہ نہ کیا گیا ہو، اس کے اچھے اثرات سے آگاہ نہ کیا گیا ہو، اس کے خطرات سے آگاہ نہ کیا گیا ہو، اور پھر خطرات سے بچنے کا طریق نہ سکھایا گیا ہو۔ پس وہ آیات جو یہاں سے شروع ہوتی ہیں وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ان میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ سب سے پہلی بات جو توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ میں ”لا“ کی تکرار کیوں ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں دوسری جگہ جہاں بھی حسنہ اور سیئہ کا موازنہ کیا گیا ہے اور یہ کہنا مقصود ہے کہ بھلائی بدی کے برابر نہیں ہو سکتی اور بدی بھلائی کے برابر نہیں ہو سکتی وہاں ایک ہی ”لا“ نے دونوں کام کئے ہیں اور عربی قاعدہ کے مطا اور عربی قاعدہ کے مطابق موازنہ کے لئے دو دفعہ ”لا“ کی تکرار نہیں ہونی چاہئے ۔ جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں کہ بدی اور بھلائی ہم پلہ یعنی برابر نہیں ہو سکتے ۔ ایک دفعہ نہیں کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ نہ بدی برابر ہو سکتی ہے نہ بھلائی برابر ہو سکتی ہے۔ پس یہ وہ مضمون ہے جس کو اردو میں اس کا متبادل مضمون بیان کر کے واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ عربی میں اس طرح کی تکرار کا ترجمہ یہ بنے گا کہ نہ بدی برابر ہو سکتی ہے نہ بھلائی برابر ہو سکتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں حکمت کیا ہے۔