خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 87
خطبات طاہر جلد ۲ 87 خطبه جمعه ۱۸ رفروری ۱۹۸۳ء داعی الی اللہ کے لیے احسن قول، احسن عمل اور صبر کی ضرورت ( خطبه جمعه فرموده ۱۸ فروری ۱۹۸۳ء بمقام مسجد احمد یہ مارٹن روڈ کراچی ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمُ وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا ذُو حَظِ عَظِيمٍ ( تم السجدة :۳۴-۳۶) اور پھر فرمایا: میں نے گزشتہ تین خطبات میں جماعت کو داعی الی اللہ بننے کی طرف توجہ دلائی تھی اور یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں داعی الی اللہ بننے کے لئے جس رنگ میں قرآن کریم نے مومن کو توجہ دلائی ہے اس پر کچھ روشنی ڈالی تھی اور پھر وہ پس منظر بھی بیان کیا تھا جو ان آیات سے پہلے خود قرآن کریم داعیان الی اللہ کا بیان کرتا ہے کہ وہ تمدنی، معاشرتی اور دینی لحاظ سے کیسے لوگ ہوتے ہیں، وہ کیا کام شروع کرتے ہیں، ان کا مدعا کیا ہوتا ہے، دنیا ان سے کیا سلوک کرتی ہے، پھر