خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 85
خطبات طاہر جلد ۲ 85 خطبه جمعه ۱۱ار فروری ۱۹۸۳ء جوا بتلاؤں کی چکی میں سے کامیابی کے ساتھ گزر کر جاتے ہیں۔ان کو فرشتوں کی معیت نصیب ہوتی ہے۔فرشتے کہتے ہیں ہم تمہارے اولیاء ہیں یعنی فخر فرشتے کر رہے ہوتے ہیں نہ کہ یہ لوگ ، یہ بھی عجیب طرز کلام ہے، بڑے آدمی کے پاس ہمیشہ چھوٹے آدمی آیا کرتے ہیں اور ان کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے دوست ہیں تو خدا کے فرشتے بھی اسی طرح ان لوگوں کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں اس لئے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ ہم اپنی دوستی تمہارے حضور پیش کریں اور تم ہماری دوستی میں ہمیشہ وفا پاؤ گے۔ہم بھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔اس کا ایک طبعی نتیجہ یہ ہے کہ عمل صالح ان کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ان کے اندر جو پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں وہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑا کرتیں اور جن کی پاک تبدیلیاں ان کا ساتھ چھوڑ دیں ان پر فرشتے نازل نہیں ہوا کرتے۔یہ لازم و ملزوم چیزیں ہیں اس لئے جو قوم ابتلاؤں سے گزر کر وقتی طور پر اصلاح پذیر ہو جائے اور کچھ دیر کے بعد پھر انہی برائیوں میں ملوث ہو جائے اس پر آیت قرآنی نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ جیسا کہ یہاں بیان کیا گیا ہے اور خدا کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی کہ فرشتوں کی معیت عارضی نہیں وہ اس طرح نہیں آتے کہ پھر چلے جائیں اور جو نیکیاں وہ لے کر آتے ہیں ان کو بھی ساتھ لے جائیں بلکہ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جن کے اعمال صالحہ میں دوام پیدا ہو جاتا ہے۔اور اسی گروہ کا اس آیت میں ذکر ہے : وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا کہ اب بتاؤ، ان سے زیادہ پیاری بات کرنے والا دنیا میں کون ہوگا ؟ اپنے اعمال صالحہ سے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ نیک اور خدا والے لوگ ہیں، ابتلاؤں سے گزرے ہوئے ہیں، آزمودہ کار ہیں ، خطرات کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ہوا ہے اور ان سے کامیابی کے ساتھ گزرے ہوئے ہیں۔ان کی تلخیوں کو برداشت کیا ہوا ہے اور پھر ان تلخ درختوں کو خدا کی رحمت نے جو میٹھے پھل لگائے تھے ان سے لذت یاب ہیں اس لئے ان سے زیادہ پیاری بات کرنے والا اور کوئی نہیں۔اس کے بعد ایک اور دور شروع ہوتا ہے، وہ کیا ہے؟ وہ اگلی چند آیات میں بیان کیا گیا ہے۔چونکہ اب وقت زیادہ ہو رہا ہے اور ایک ہی خطبہ میں ان آیات کے مختلف پہلو بیان نہیں کئے جاسکتے اس لئے یہ مضمون انشاء اللہ میں اگلے خطبے میں بیان کروں گا۔