خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 80
خطبات طاہر جلد ۲ 80 60 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۳ء ہو گئے۔حضرت مصلح موعوددؓ فرمایا کرتے تھے کہ بعض دفعہ بچے ماں سے اپنے ابا کے متعلق پوچھا کرتے اور خصوصیت کے ساتھ ایک بچہ جو چھوٹا تھا وہ اپنی ماں کو تنگ کرتا اور کہتا کہ امی ! دوسروں کے ابا آتے ہیں اور ان کے لئے چیزیں لاتے ہیں، میرا ابا کہاں ہے؟ وہ کبھی نہیں آتا۔اس کی امی کی آواز بھرا جاتی تھی جس کی وجہ سے بول نہیں سکتی تھیں اور جس طرف بھی وہ انڈونیشیا سمجھا کرتی تھیں اس طرف اشارہ کر کے کہتیں کہ تمھارا ابا اس طرف ہے، وہاں سے کسی وقت آئے گا۔اس عرصے میں وہ بچہ جوان ہو گیا اور بچپن میں باپ کی شفقت کا جو سایہ ہوتا ہے اس سے محروم رہ کر جوان ہوا۔جتنی عظیم الشان قربانی کوئی خاندان خدا کی راہ میں دیتا ہے اسی شان کے فرشتے اس پر نازل ہوا کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں میں ہیں کہ جن کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو خدا کئی دفعہ سچا کر دکھاتا ہے۔یہ پہلے کہتے ہیں اور فرشتوں کو بعد میں ان کی متابعت کا حکم دیا جاتا ہے۔چنانچہ مولوی رحمت علی صاحب انڈونیشیا میں جس محلہ میں رہائش پذیر تھے وہ سارے کا سارالکڑی کے مکانوں کا بنا ہوا تھا۔ایک دفعہ وہاں ایسی خوفناک آگ لگ گئی جو پھیلتے پھیلتے ہوا کے رخ کے مطابق مولوی صاحب کے گھر کی طرف چل پڑی۔جماعت کے پریشان حال ممبران وہاں پہنچے اور ان کی منتیں کیں کہ مولوی صاحب! آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں کم از کم سامان ہی نکال لیں۔بعد میں انسان تو جلدی سے بھاگ کر بھی باہر جا سکتا ہے یہ بہت ہی خطر ناک آگ ہے جو کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی۔پھر ہوا کا رخ ایسا ہے کہ لازماً اس نے آپ کے گھر تک پہنچنا ہی پہنچنا ہے۔مولوی صاحب نے کہا، اس جگہ کو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں تو اس آقا کا غلام ہوں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی بھی غلام ہے ( تذکرہ صفی ۳۲۴) اس لئے یہ آگ مجھے کچھ نہیں کہ سکتی۔یہ ایک بہت بڑا دعویٰ تھا لیکن ایک بہت بڑے مومن کی زبان کا دعویٰ تھا۔ایک ایسے مومن کی زبان کا دعوی تھا جن کے متعلق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ خوشخبری ہے رُب أَشْعَثَ أَغْبَرَ۔۔۔۔۔۔لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَا بَرَّهُ (مستدرک حاکم جلد م صفحه ۳۶۴۔الجامع الصغیر جز ثانی صفحه ۱۸ باب الراء) که خبر دار ! خدا کے ایسے درویش بندے بھی ہیں جو پراگندہ بال اور خاک آلود ہوتے ہیں، لیکن اگر وہ خدا پر قسم کھا جائیں تو خدا ضروران کی قسم کو پورا کرتا ہے۔