خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 79
خطبات طاہر جلد ۲ 79 خطبہ جمعہ اار فروری ۱۹۸۳ء فوج اچانک غالب آگئی۔اس طرح وہ معرکہ مسلمانوں کے حق میں ثابت ہو ( تاریخ انمیں جلد نمبر۲ صفحه ۲۷۰-۲۷۱ - تاریخ طبری ج ۲ صفحه ۵۵۳ ،ذکر فتح جسادسنته ثلاث وعشرین ) پس وہ خدا جس نے بدر میں مسلمانوں کی تائید و نصرت کی تھی ، اس نے بعد میں مسلمانوں کو اپنی تائید سے نوازا۔وہ فرشتے جنہوں نے یہ عہد کیا تھا: نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ انہوں نے پھر اس دنیا کی زندگی میں صحابہ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔( حم السجدۃ:۳۲) یہی مضمون بغیر ظاہری نظاروں کے یا بغیر کشوف کے یا بغیر رؤیا کے بھی چلتا ہے لیکن اس قسم کے واقعات جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا انفرادی طور پر بہت زیادہ نہیں ملتے لیکن اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ بکثرت ایسے واقعات مسلسل رونما ہو رہے ہوں گے کیونکہ جماعت کی جو تاریخ بن رہی ہے اس میں ہم اس کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول دیکھتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے سے یہاں تو بکثرت فرشتے نازل ہو رہے ہوں اور نعوذ باللہ من ذالک صحابہ کی زندگی میں بکثرت نازل نہ ہوئے ہوں۔کوئی ایسا ملک نہیں ہے کہ جہاں احمدیت کی تاریخ بن رہی ہے اور اس قسم کے واقعات وہاں پھیلے نہیں پڑے، بکھرے نہیں پڑے، جیسے کسی نے کہا ہے: ع چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستاں میری اسی طرح احمدیت کے چمن میں یہ ایمان افروز نظارے ہر جگہ بکثرت دکھائی دیتے ہیں اور دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں احمدیت داخل ہوئی ہو اور ثبات قدم کے عظیم الشان نمونے اس نے نہ دکھائے ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ کے یہ وعدے بڑی شان کے ساتھ پورے نہ ہوئے ہوں کہ : تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوْ بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدة : ٣١) مولوی رحمت علی صاحب مبلغ احمدیت نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس طرح انڈونیشیا میں خدمت اسلام میں کاٹا کہ پیچھے جوان بیوی بوڑھی ہوگئی ، اس کے کالے بال سفید ہو گئے اور بچے جوان