خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد ۲ باوجود لازماً پوری ہو کر رہتی ہے۔ 76 خطبه جمعه ۱۱ فروری ۱۹۸۳ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ بدر میں شریک ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوشخبری کے مطابق مُسَوَّ مِینَ فرشتے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی مدد کے لئے آئے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُسَوَّ مِینَ کی یہ تفسیر فرمائی کہ یہ ایسے فرشتے ہیں جو معلوم ہو جائیں گے ان پر گو یا نشان ہیں اور ان کی کچھ علامتیں ہیں ۔ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں جو فرشتے دیکھے گئے ان کے سروں پر سیاہ پگڑیاں تھیں اور ان کی ایک یونیفارم تھی ۔ صحابہ نے جب ان فرشتوں کو مختلف حالتوں میں دیکھا تو اسی طرح سیاہ پگڑیاں انہوں نے پہنی ہوئی تھیں۔ جب روائتیں اکٹھی ہوئیں تو وہ تعجب میں پڑ گئے۔ مگر جیسا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُسَوَّ مِینَ کی تفسیر فرمائی تھی ویسا ہی مقدر تھا اور بعینہ ایسا ہوا ۔ اسی طرح جنگ احد میں جو فرشتے دکھائی دیئے ان کے سروں پر بطور نشان سرخ پگڑیاں تھیں ۔ (الدر المنثور زیر آیت بلی ان تصبروا و تتقوا ۔۔ آل عمران ۱۲۶) سرخ رنگ میں کچھ غم کا پیغام بھی تھا کیونکہ جتنا دکھ صحابہ کو جنگ احد میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخموں کی وجہ سے پہنچا و یا دکھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری زندگی میں کبھی صحابہ کو نہیں پہنچا۔ ایک غم کے بعد دوسرے غم کی خبر ان کو ملی اور وہ عموں سے نڈھال ہو گئے ۔ پس اس غزوہ میں فرشتوں کی علامت کے لئے بھی ایک ایسا رنگ چنا گیا جس میں غم اور خون اور دکھ کا پہلو شامل ہے۔ یہ فرشتے اجتماعی طور پر بھی صحابہ کو ان کی مدد کرتے ہوئے دکھائی دیئے اور انفرادی طور پر بھی ایسی حالت میں کہ ان کو پتہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ چنانچہ جب حضرت عباس قیدی بنا کر لائے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا کہ حضرت عباس کو قیدی بنانے والے ابوالیسر ہیں۔ ابوالیسر ایک چھوٹے ، دبلے پتلے اور کمزور سے آدمی تھے۔ (شاید ان کی کنیت میں بھی اسی طرف اشارہ تھا کیونکہ یسر کا معنی ہے آسانی اور ابوالیسر کا مطلب یہ ہوا کہ یہ آسانی کا باپ ہے۔ ہلکا پھل کا آسان سا آدمی ہے اور ہر شخص اس سے نپٹ سکتا ہے۔ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعجب سے ابوالیسر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے ابوالیسر ! تم تو بہت کمزور اور ہلکے پھلکے آدمی ہو اور عباس بڑے مضبوط،