خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 75
خطبات طاہر جلد ۲ 75 خطبه جمعه ۱۱ / فروری ۱۹۸۳ء اللہ کی راہ میں استقامت دکھانے والوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ( خطبه جمعه فرموده ۱۱ار فروری ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں قرآن کریم کی اس خوشخبری کا ذکر کیا تھا کہ خدا تعالیٰ کے وہ بندے جو اس کی راہ میں استقامت دکھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر بکثرت فرشتے نازل فرماتا ہے جو انہیں تسلی دیتے ہیں، غم نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہیں اور خوف سے بے نیاز ہو جانے کا پیغام دیتے ہیں۔وہ انہیں کہتے ہیں کہ ہم آئے تو ہیں لیکن تمہیں چھوڑ کر چلے جانے کے لئے نہیں بلکہ اب ہمیشہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے، اس دنیا میں بھی اور اس دنیا کی زندگی کے ختم ہو جانے کے بعد بھی۔میں نے مختصراً یہ بھی ذکر کیا تھا کہ یہ فرشتے مختلف صورتوں میں مختلف قسم کے درجات کے لوگوں کے لئے مختلف قسم کی خوشخبریاں لے کر آتے ہیں۔تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ یہ فرشتے کبھی تمثل اختیار کرتے ہیں اور ظاہری آنکھوں سے بھی نظر آنے لگتے ہیں کبھی یہ فرشتے خوابوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور خوابوں کے ذریعے جو پیغام دیتے ہیں وہ من و عن پورا ہو جاتا ہے کبھی یہ فرشتے سکینت بن کر دلوں پر نازل ہوتے ہیں اور ایک یقین کامل بن کر دلوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور جو دل میں بیٹھی ہوئی بات ہوتی ہے وہ مخالف حالات کے