خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد ۲ 74 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء یعنی وہ مصائب یا وہ جگہیں جہاں موت کے تاریک مصائب ہجوم کر رہے ہوتے ہیں اور ان کے چہرے رات کی طرح سیاہ ہوتے ہیں ان مصائب کو کوئی ہٹا نہیں سکتا مگر آزاد ماں کا بیٹا جوان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا ان کی طرف بڑھتا اور پھر ان میں داخل ہو جاتا ہے۔وہ ہر تاریکی کو نور اور روشنی میں تبدیل کر دیتا ہے اور ہر موت کو ایک زندگی عطا کرتا ہے۔پس یہ ہیں وہ لوگ جو ربنا الله کہتے ہیں اور پھر اس دعویٰ پر استقامت اختیار کرتے ہیں، جن پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں، جن کی ہر تاریکی نور میں تبدیل کی جاتی ہے اور پھر وہ تاریکی میں بسنے والے ہر شخص کو اسی نور کی طرف بلاتے ہیں۔ان کا ہر غم خوشی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے پھر وہ دنیا کی طرف بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہارے غم بھی اٹھا ئیں اور انہیں خوشیوں میں تبدیل کریں۔یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کو خوف ڈراتے ہیں لیکن وہ ان خوفوں سے خوف نہیں کھاتے بلکہ دنیا کے خوف ہٹانے کے لئے دنیا کی طرف بڑھتے ہیں۔یہ ہیں وہ داعی الی اللہ جو ہمیں بننا ہوگا کیونکہ دنیا ہزار قسم کی ظلمات کا شکار ہے، ہزار خوفوں میں مبتلا ہے، ہزار قسم کے حزن ہیں جو سینوں کو چھلنی کئے ہوئے ہیں۔پس اے احمدی! آگے بڑھ اور ان خوفوں کو دور کر ، ان اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کر دے اور ان غنموں کو راحت و اطمینان میں بدل دے کیونکہ تیرے مقدر میں یہی لکھا گیا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۲ مئی ۱۹۸۳ء)