خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 68

خطبات طاہر جلد ۲ 68 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء ہم ایک ایسی تاریخ بنا رہے ہیں جو اس دور میں اسلام کی استقامت کی تاریخ ہے اور یہ تاریخ بھی اتنی روشن اور درخشندہ ہے کہ ہزاروں سال کے بعد بھی ماضی کے پردے پھاڑتے ہوئے اس کی روشنی چمکا کرے گی اور آنے والی نسلیں مڑ کر دیکھیں گی اور اپنی آنکھوں کو ان نظاروں سے خیرہ کیا کریں گی ۔ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید انہیں لوگوں میں سے تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت دکھائی اور اپنے اس دعوی سے سرِ مو بھی انحراف نہیں کیا۔ جب آپ کو شہادت کے لئے اس مقام کی طرف لے جایا جا رہا تھا جہاں آپ کو سنگسار کر کے شہید کیا جانا تھا تو امیر کابل نے کہا کہ یہ کافی نہیں اس کے ناک میں سوراخ کرو اور جس طرح بیل کو ناک میں رسی ڈال کر اور کھینچ کر لے جایا جاتا ہے، اسی طرح قربانی کے بیل کو لے کر جاؤ۔ چنانچہ آپ کے ناک میں سوراخ کر کے رسی ڈالی گئی اور ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو ہنستا ، شور مچاتا اور طعن و تشنیع کرتا ہوا آپ کے ساتھ چلا جا رہا تھا اور ان کے درمیان کا بل کی گلیوں سے استقامت کا شہزادہ سر اٹھائے ہوئے گزر رہا تھا اور کوئی خوف اور کوئی بلا اس سر کونگوں نہیں کر سکی۔ وہ اس عظمت اور شان کے ساتھ ان گلیوں سے گزرا ہے کہ اس کی یادیں وہ گلیاں قیامت تک نہیں بھلا سکیں گی ۔ جب صاحبزادہ صاحب شہید کو زمین میں چھاتی تک گاڑ دیا گیا تو بادشاہ وقت نے جو آپ سے ہمدردی رکھتا تھا آپ سے کہا کہ اب بھی آپ مسیح موعود کا انکار کر دیں۔ اپنی جان کا خیال کریں ، اپنے اموال اور جائیداد کا خیال کریں اور اپنے بچوں کا خیال کریں۔ حضرت صاحبزادہ صاحب نے سراٹھا کر کہا کہ اے بادشاہ! ایمان کے مقابل پر میری جان کیا چیز ہے؟ میرے اموال کیا حیثیت رکھتے ہیں اور میرے بچوں کی کیا قیمت ہے؟ کچھ بھی نہیں اس لئے تم وہی کرو جس کا تم ارادہ کر چکے ہو۔ اس پر بادشاہ وقت نے کہا کہ اگر تم انکار نہیں کرنا چاہتے تو مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری طرف سے اعلان کر دوں ۔ انہوں نے فرمایا نہیں ، میں اس کی بھی اجازت نہیں دیتا اور تم نے جو کچھ کرنا ہے جلدی کرو۔ چنانچہ بادشاہ نے قاضی وقت سے کہا کہ پہلا پتھر تم مارو۔ قاضی نے جواب دیا کہ آپ بادشاہ ہیں اس لئے پہلا پتھر آپ چلائیں۔ بادشاہ نے کہا نہیں، شریعت کے بادشاہ تو تم بنے ہوئے ہو، تمہارا حکم چل رہا ہے میرا نہیں ، اس لئے پہلا پتھر بھی تم مارو۔ چنانچہ قاضی نے پہلا پتھر مارا اس کے بعد پتھروں کی اس طرح بوچھاڑ ہوئی کہ