خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 67
خطبات طاہر جلد ۲ 67 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء کی دعا یہ بتا رہی ہے کہ ربنا اللہ یعنی اللہ کی عبادت کرنا اور کسی اور کی طرف منہ نہ کرنا، اس دعوٹی کے نتیجے میں لازماً مشکلات پیدا ہوں کی اور اگر دعا ، پیدا ہوں گی اور اگر دعا ئیں نہیں کروں کرو گے تو ان مشکلات میں ثابت قدم نہیں رہ ، سکو گے۔ پس صراط مستقیم در اصل استقامت کی تشریح ہے یا استقامت صراط مستقیم کی تشریح ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ پس فرمایا کہ جب وہ استقامت اختیار کرتے ہیں تو ہم انہیں اس سے پہلے استقامت کا گر سکھا چکے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے زور بازو سے مستقیم نہیں رہ سکتے بلکہ ہم انہیں دعائیں سکھاتے ہیں وہ گریہ وزاری کے ساتھ ہماری طرف جھکتے ہیں اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا جاری رہتی ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطا فرماتا ہے۔ پھر جب وہ استقامت دکھاتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟ فرمایا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمْ الْمَلَكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا یعنی بکثرت ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا کہ کوئی خوف نہ کرو، کوئی غم نہ کھاؤ۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ استقامت دکھانے والے لوگوں کو یہ فرشتے کہتے ہیں کہ کوئی غم نہ کھاؤ اور کوئی خوف نہ کرو حالانکہ غم کی وجوہات بھی نظر آتی ہیں اور خوف کی وجوہات بھی نظر آتی ہیں پھر اس پیغام کا کیا مطلب ہے کہ کوئی غم نہ کھاؤ اور کوئی خوف نہ کرو؟ کیونکہ استقامت خود ایسے حالات کی متقاضی ہوتی ہے جن کے نتیجے میں غم بھی پیدا ہو گا اور خوف بھی پیدا ہوگا۔ مثلاً اگر کسی ایسے انسان کو جسے نقصان پہنچا ہو آپ کہہ دیں کہ غم نہ کرو تو اس سے اس کا غم کس طرح دور ہوگا ؟ یا اگر خوف کے مقام پر آپ یہ اعلان کر دیں کہ خوف نہ کرو تو اس سے خوف کس طرح زائل ہو سکتا ہے؟ اس لئے دیکھنا یہ ہے کہ وہ فرشتے ایسی باتیں کر کے ان کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہوتے ہیں یا یہ پیغام کوئی اور معنی رکھتا ہے؟ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس مضمون میں داخل ہوں ، ہم استقامت کی طرف واپس لوٹتے ہیں ۔ استقامت کے سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور ساتھیوں نے جو عظیم الشان نمونے دکھائے ، تاریخ اسلام ان واقعات سے روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہے گی۔ وہ واقعات ایسی روشنائی سے لکھے گئے ہیں کہ جن کی چمک کبھی ماند نہیں پڑ سکتی اور جن کا کچھ ذکر میں نے جلسہ سالانہ کی پہلے دن کی تقریر میں کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی عظیم احسان ہے کہ اس نے جماعت احمد یہ کو بھی ان درخشندہ مثالوں کی پیروی کی توفیق بخشی اور بخشتا چلا جا رہا ہے۔