خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 713

349 402 459 476 500 51 ربوہ کی سوسائٹی آنحضرت کے غلام حضرت مسیح موعود کی قائم کردہ ہے آپ کے زمانہ میں ہندوستان میں جماعت کا رابطہ زیادہ تر دشمنان اسلام سے تھا قوم کے ظلم سے تنگ آکے میرے پیارے آج 561 چھو کے دامن تر اہر دام سے ملتی ہے نجات 55 اگر خواهی دلیلی عاشقش باش جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں حضرت مسیح موعود کے مہمان 628، 563،570 ، 560، 159 نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال تعلیمات آپ کی تفسیر آپ کی تعلیمات کا خلاصہ دعا ہے 142 آپ کا بیان کردہ صفت مالکیت کا مفہوم کشتی نوح آپ کی تعلیم جس نے يطيقونه کی تفسیر جماعت احمدیہ کی صورت میں مجسم کیا 272 دنا فتدلی کی تفسیر 523 320 602 آپ کی کشتی لاز ما غالب آئے گی آپ کی تحریر ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے آپ کی تحریر سچائی سے معمور 274 آپ کا سورۃ العصر سے استنباط کہ اسلام کے ہزار سال 150 150 تاریکی اور گھاٹے والے ہے 204 آپ نے اللہ سے کشفی علم پا کر سورۃ العصر کی تفسیر فرمائی آپ کی تعلیمات پر عمل کے بغیر ہم غیر محفوظ ہیں 279 278 اگر نماز توجہ کے ساتھ کھڑی نہ کی جائے تو گر پڑے گی سودی روپیہ کے بارہ میں آپ کا فتوئی 182 189 آپ کے علم اعداد کی تشریح کی بنیاد کشف الہی تھا آپ کے استنباط سے کسی کو اختلاف کا حق نہیں نکاح کیلئے صرف ایجاب و قبول لازم ہے الہامات 635 آپ کے بیان فرمودہ امانت کے معنی 229۔230۔232 233 234 605۔600 متفرق اللہ نے الہاما بتایا کہ ایک کشتی تیار کر 272 آپ کے کلام میں شوکت جرى الله في حلل الانبياء 302 آپ کا عارفانہ کلام یہ نان تیرے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کیلئے ہیں 384 آپ نے ۱۹۰۷ء میں وقف کی تحریک فرمائی میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا 432 آپ کے الہام کی تشریح جے تو میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو نُصْرِتُ بِالرُّعْبِ 470،478 500 آپ کے کلام کو سمجھیں آپ کے متعلق منفی لٹریچر 476 357 155 471 338 525 90 95 459 434 سلام علیک یا ابراهیم انک الیوم لدينا مكين امين 622 حضور کا شعر گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں یہ احسن قول کا بہترین نمونہ ہے آپ کی نظمیں اچھی آواز میں ریکارڈ کر کے سنائیں آپ کے شعر ۔ اگر خواہی دلیلے عاشقش باش کو بعض نے اپنی مساجد پر لکھوایا صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب 90۔642 123 153 337،361 اشعار گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو امروز قوم من نشناسد مقام من سر سے لے کر پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں عدو جب بڑھ گیا شور وفغان میں