خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 65
خطبات طاہر جلد ۲ 65 59 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء اس کے نتیجے میں تو تمہارا رزق کم کیا جائے گا اور تم مشکلات اور مصیبتوں میں مبتلا کئے جاؤ گے۔تم عجیب پاگل قوم ہو کہ بڑی محنت کے ساتھ اپنی حکمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اور اپنی جسمانی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے تم روپیہ کماتے ہو اور پھر اس روپے کو از خود خدا کے نام پر خرچ کر دیتے ہو اور دعوی یہ ہے کہ ربنا الله، اللہ ہمارا رب ہے۔اچھا اللہ تمہارا رب بنا کہ پہلے حال سے بھی بدتر ہو گئے۔دنیا کمانے والے جو تمہارے بھائی بند ہیں وہ تو کمانے کے رستے بھی زیادہ رکھتے ہیں اور خرچ بھی خالصتاً اپنی ذات پر کرتے ہیں۔ان کا رزق زیادہ بابرکت ہے یا تمہارا جن کی آمد کے رستے تنگ ہیں اور خرچ کے رستے زائد ہو گئے اور تم ایسی جگہ بھی خرچ کرنے لگے جس کے نتیجے میں تمہیں کوئی ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا۔اب دیکھیں کتنا بڑا ابتلا ہے کہ ربنا اللہ کہنے والوں نے جھوٹ کی کمائی کے رستے اپنے اوپر بند کر دیئے۔ربنا الله کہنے والوں نے رشوت کی کمائی کے رستے بند کر دیئے۔ربنا الله کہنے والوں نے ظلم کے ذریعے ہتھیائی ہوئی جائیدادیں حاصل کرنے کے رستے اپنے اوپر بند کر دیئے۔ربنا الله کہنے والوں نے تکڑی کے تول میں خرابی کے ذریعے زیادہ آمدن پیدا کرنے کے رستے بند کر دیئے۔ربنا اللہ کہنے والوں نے چوری کے رستے بند کئے ، ڈاکے کے رستے بند کئے اور دھو کے کے رستے بند کئے۔باقی دنیا کے لئے رزق کے کتنے ہی رستے کشادہ ہیں اور کتنی ہی ان گنت راہیں ہیں جو دنیا والوں کے لئے کھلی ہیں مگر ربنا الله کہنے والوں نے ان سب راہوں سے منہ موڑ لیا اور پھر خرچ کی راہوں میں اپنے لئے ایسی راہیں تجویز کیں کہ وہ پاکیزہ رزق جو بظاہر تنگ رستوں سے انہیں حاصل ہوتا ہے اور دنیا کے مقابل پر ان کی آمد کے وسائل بہت محدود نظر آتے ہیں ، اپنی اس قلیل آمد کو بھی وہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے لگ گئے اور دعویٰ یہ ہے کہ ربنا اللہ اللہ ہمارا رازق ہے۔یہ وہ اندرونی آزمائش ہے جس میں سے یہ لوگ گزرا کرتے ہیں اور اسی کا نام استلقاء ہے کہ اپنے دعویٰ کو سچا ثابت کر کے دکھاتے ہیں اور ہر قسم کے مصائب کو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں اور کسی قسم کا خوف نہیں کھاتے اور یقین رکھتے ہیں کہ وہی رازق ہے اور اسی سے ساری برکتیں حاصل ہوتی ہیں اور اسی کے نام پر خرچ کرنے میں دراصل رزق کی برکتوں کی چابی رکھی گئی ہے۔اس یقین کے ساتھ وہ استقامت اختیار کرتے ہیں۔پھر ایک بیرونی ابتلا ان پر آتا ہے۔باہر کی دنیا کہتی ہے کہ اچھا اگر تم اللہ کوہی رب سمجھ رہے