خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 64
خطبات طاہر جلد ۲ 64 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء چنانچہ جو آیات میں ۔ نے ابھی تلاوت کی ہیں ان میں اسی مضمون کو تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ داعی الی اللہ کون ہیں اور کن لوگوں میں سے نکلتے ہیں۔ چنانچہ ان کے متعلق فرمایا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس دعوئی پر استقامت اختیار کرتے ہیں ۔ جہاں تک ربنا الله کے دعوی کا تعلق ہے اس کے ساتھ بظاہر تو استقامت کی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ کیوں اس دعوٹی کی وجہ سے استقامت اختیار کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اس لیے کہ سب لوگوں کا رب اللہ ہے اور فی ذاتہ محض یہ دعویٰ کرنا کہ ”اللہ ہمارا رب ہے بظاہر دشمنیوں کو انگیخت 66 نہیں کرتا اور کوئی عقلی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ اس دعوی کے نتیجے میں دنیا ایسے لوگوں پر کیوں مصیبتیں برپا کرے گی جن کی وجہ سے استقامت کا سوال پیدا ہو گا۔ لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ جور بنا اللہ کہتے ہیں ان کا انداز عام دنیا کے ربنا الله کہنے والوں سے مختلف ہوتا ہے۔ ان کے اندر زیادہ سنجیدگی پائی جاتی ہے، ان کے اندر زیادہ خلوص پایا جاتا ہے اور ربنا اللہ کا دعوی ان کے اعمال میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر دیتا ہے کہ یہ لوگ عام دنیا کے لوگوں سے کچھ مختلف شکلیں اختیار کر جاتے ہیں ۔ ربُّنَا اللہ کا معنی ہے، اللہ ہمارا رب ہے۔ وہی ہے جس نے پیدا کیا ، وہی ہے جو پرورش کرتا ہے، وہی ہے جو تربیت دے کر آگے بڑھاتا ہے۔ مربی بھی ہمارا وہی ہے اور پالن ہار بھی و ی وہی ۔ اسی سے ہم دنیا کے رزق حاصل کرتے ہیں اور اسی سے روحانی رزق حاصل کرتے ہیں۔ یعنی جسمانی اور روحانی ، دونوں غذا ئیں ہمیں اپنے رب سے ملتی ہیں اور وہ ہمیں کافی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور رب کی ضرورت نہیں ۔ اگر آپ اس دعوی پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ایک طرف تو یہ دعوی کلیہ اللہ پر انحصار کر دیتا ہے اور دوسری طرف کلیہ غیر اللہ سے مستغنی بھی کر دیتا ہے۔ ربنا الله کا دعویٰ کرنے والوں پر کئی قسم کے ابتلا آتے ہیں جن کے نتیجے میں انہیں استقامت دکھانی پڑتی ہے۔ کچھ تو اندرونی ابتلا ہیں اور کچھ بیرونی ابتلا ۔ اندرونی طور پر تو یہ قوم تربیت کے ایسے مشکل رستوں سے گزرتی ہے کہ قدم قدم پر ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ جس رب کے پیچھے تم چل رہے ہو