خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 657

657 خطبه جمعه ۳۰/دسمبر ۱۹۸۳ء خطبات طاہر جلد ۲ ایک درخت کے سایہ میں اوپر کڑوی اور بدمزہ نیم بولیاں لگی ہوئی ہیں اور اس کے نیچے ایک بیل میں شیر میں خربوزے یا تربوز لگے ہوئے ہیں، ساتھ ہی آلو بن رہے ہیں، کہیں ٹماٹر بن رہے ہیں۔کہیں آم کا درخت ہے مٹی وہی ہے، پانی بھی وہی ہے دھوپ بھی وہی ہے جو وہ کھارہے ہیں ،مگر رنگ اور روپ کس طرح بدلتے ہیں کہیں کانٹے نکل رہے ہیں، کہیں نہایت خوبصورت گلاب کے پھول، کہیں سفید چنیلی ہے اور کئی قسم کی خوشبو میں اٹھ رہی ہیں اور وہیں ایسے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں کہ ایک جانور گند یہ منہ مار رہا ہے ، ایک مکھی شہد چوس رہی ہے، ایک بھنورا ہے جو پھولوں پر بیٹھا ہے، ایک کیڑا ہے جو گندگی ڈھونڈتا رہتا ہے اور صرف اس پر ہی اترتا ہے، اور اگر پھول پر بٹھا دو تو بے چارہ بھوکا مر جائے اور شائد اس کی ناک میں تکلیف ہو جائے کہ کتنی بد بودار چیز پر میں بیٹھا ہوں اور پھر وہیں Worms ہیں زمین کے اندر جا کر وہ گندگی کھاتے اور Waste Products کو استعمال کرتے ہیں اور اس کو پھر انہی پودوں کے لئے جو خوشبو پیدا کر رہے ہیں غذا بنا رہے ہوتے ہیں اور کسی کو کچھ مجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہو رہا ہے اس کے پیچھے کیا کیا چیزیں ہیں۔یہ آخر کیوں نہیں ہورہا اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کیوں نہیں دیکھتا۔اس مسئلہ کو قرآن کریم بیان فرماتا ہے: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام : ۱۰۴) کہ اے بیوقوفو! تمہاری آنکھوں میں یہ طاقت نہیں ہے کہ کسی چیز کی کنہ کو معلوم کر سکو۔تم تو اندھے ہوا گر اللہ کا نور نہ اترے۔وہی ہے جو بصیرت عطا فرماتا ہے وہ بصیرت عطا نہ فرمائے تو تمہاری نظریں ٹھہر جاتی ہیں آگے پر دے پڑے ہوئے ہیں۔فرمایا: چنانچہ اسی مضمون کو ایک خاص ترتیب سے بڑی لطافت سے قرآن کریم نے کھولا جب إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ یہ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ که زمین و آسمان کی تخلیق ، دن اور رات کے بدلتے رہنے میں اولی الالباب اہل عقل کے لئے بہت سے نشانات ہیں لیکن اہل عقل کی تعریف یہ فرمائی الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمُ اہل عقل و دانش وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کو یاد کرتے ہیں دن کو