خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 657
خطبات طاہر جلد ۲ 657 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۳ء ایک درخت کے سایہ میں اوپر کڑوی اور بدمزہ نیم نبولیاں لگی ہوئی ہیں اور اس کے نیچے ایک بیل میں شیریں خربوزے یا تربوز لگے ہوئے ہیں ، ساتھ ہی آلو بن رہے ہیں ، کہیں ٹماٹر بن رہے ہیں ۔ کہیں آم کا درخت ہے مٹی وہی ہے، پانی بھی وہی ہے دھوپ بھی وہی ہے جو وہ کھا رہے ہیں ،مگر رنگ اور روپ کس طرح بدلتے ہیں کہیں کا نٹے نکل رہے ہیں ، کہیں نہایت خوبصورت گلاب کے پھول، کہیں سفید چنبیلی ہے اور کئی قسم کی خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں اور وہیں ایسے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں کہ ایک جانور گند پر منہ مار رہا ہے، ایک مکھی شہد چوس رہی ہے، ایک بھنورا ہے جو پھولوں پر بیٹھا ہے، ایک کیڑا ہے جو گندگی ڈھونڈتا رہتا ہے اور صرف اس پر ہی اترتا ہے، اور اگر پھول پر بٹھا دو تو بے چارہ بھوکا مر جائے اور شائد اس کی ناک میں تکلیف ہو جائے کہ کتنی بد بودار چیز پر میں بیٹھا ہوں اور پھر وہیں Worms ہیں زمین کے اندر جا کر وہ گندگی کھاتے اور Waste Products کو استعمال کرتے ہیں اور اس کو پھر انہی پودوں کے لئے جو خوشبو پیدا کر رہے ہیں غذا بنارہے ہوتے ہیں اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہو رہا ہے اس کے پیچھے کیا کیا چیزیں ہیں ۔ یہ آخر کیوں نہیں ہو رہا اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کیوں نہیں دیکھتا۔ اس مسئلہ کو قرآن کریم بیان فرماتا ہے: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام : ۱۰۴) کہ اے بیوقوفو! تمہاری آ فو! تمہاری آنکھوں میں یہ طاقت نہیں ہے کہ کسی چیز کی کنہ کو معلوم کر سکو۔ تم تو اندھے ہوا اگر اللہ کا نور نہ اترے۔ وہی ہے جو بصیرت عطا فرماتا ہے وہ بصیرت عطا نہ فرمائے تو تمہاری اگر کا نظریں ٹھہر جاتی ہیں آگے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا: چنانچہ اسی مضمون کو ایک خاص ترتیب سے بڑی لطافت سے قرآن کریم نے کھولا جب یہ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ کہ زمین و آسمان کی تخلیق ، دن اور رات کے بدلتے رہنے میں اولی الالباب اہل عقل کے لئے بہت سے نشانات ہیں لیکن اہل عقل کی تعریف یہ فرمائی الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُو بِهِمُ اہل عقل و دانش وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کو یاد کرتے ہیں دن کو