خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 650
خطبات طاہر جلد ۲ 650 خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۸۳ء گے رستے میں ایک بچی اچانک سڑک پر آئی اس کو بچاتے ہوئے موٹر کا حادثہ ہوا اور اس میں یہ جاں بحق ہو گئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ ایک تو آنے کی نیت بڑی پاک اور صاف تھی دوسرے جس حالت میں جان دی وہ بھی بڑی پاک تھی ۔ یعنی ایک دوسری جان کو بچانے کی خاطر جان دی گئی ہے۔ یہ بھی یہ بھی ایک ایک قسم کی شہادت کا رنگ ہے۔ یہ نوجوان تعلیم کے زمانہ سے مجھ سے متعارف تھا اور احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے Patron کی حیثیت میں ، میں احمدی طلبا سے تعلق رکھتا ہوں اس لئے میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں ۔ میں نے ان کو بہت ہی مخلص ان کو بہت ہی خلص پایا۔ دینی کاموں دینی کاموں سے بہت ہی محبت رکھتے تھے اور اچھے نوجوان جو صف اول میں کام کرنے والے ہوتے ہیں ان میں میں نے ان کو دیکھا ہے۔ ڈاکٹر بننے کے بعد بھی مجھے خط لکھتے رہے اور بڑے اخلاص کے ساتھ اپنی خدمات کو جماعت کے لئے پیش کرتے اور سلسلہ سے بہت محبت رکھتے تھے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کو بہتر سمجھتا ہے وَعَلَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ (البقره: ۲۲) یہ ایسا مضمون ہے جس کو بھلانا نہیں چاہئے ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روحانی کشفی سفر کا جو واقعہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اس میں بھی ایسی مثالیں دی گئی ہیں کہ بعض دفعہ موت ایک رحمت بن جاتی ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ کیا حالات رونما ہونے والے ہیں ، کس قسم کی تکلیفوں کا انسان کو سامنا کرنا پڑے گا اور کس قسم کے ابتلاؤں سے گزرنا پڑے گا۔ کون ان پر پورا اتر سکتا ہے اور کون نہیں پورا اتر سکتا۔ پس ہمیں تو نہ ماضی کا علم ہے اور نہ مستقبل کا البتہ یہ علم ضرور ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم پر ہمیں راضی رہنا چاہئے اور خدا کی تقدیر خیر پر کامل یقین رکھنا چاہئے اور اس کی تقدیر شر سے بچنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ اس نوجوان کو غریق رحمت فرمائے۔ اس کے والدین اور بھائی بہنوں کے لئے ان کی وفات کا گہرا صدمہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے ۔ آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۱ فروری ۱۹۸۴ء )