خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 649
خطبات طاہر جلد ۲ 649 خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۸۳ء اثر تھا آپ کی طبیعت پر اس آیت کا کہ ساری رات عبادت کرتے رہے اور اپنے رب کے حضور گریہ وزاری کرتے رہے اور صبح کی نماز کے وقت جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ اطلاع کرنے کے لئے آئے تو باہر نکلتے وقت بھی رقت سے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ حضرت بلال نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کیا وجہ ہے ، آپ کیوں رورہے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ بلال تمہیں یہ پتہ نہیں کہ آج مجھ پر کون سی آیت نازل ہوئی ہے اور پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران : ۱۹۱ ۱۹۲) پس ذکر الہی کا یہ وہ مضمون ہے جو اپنے اندر ایک خاص شان رکھتا ہے اور دلوں کو گداز کرنے والا ہے اس لئے جلسہ سالانہ کے ایام میں خصوصیت کے ساتھ اٹھتے بیٹھے چلتے پھرتے لیٹتے اور سوتے وقت اس طرح دعائیں کریں اور اس طرح ذکر الہی کریں کہ نیند میں بھی وہ ذکر داخل ہو چکا ہو۔ آپ کو خواہیں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کی آئیں۔ ربوہ کی یہ وہ رونق ہے جو مقصود بالذات ہے۔ یا درکھیں ! تمام مذاہب کا آخری پھل اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا ذکر ہے۔ پس اس پہلو سے ربوہ کو ایسی رونق بخشیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کی نظریں اس جلسہ پر پڑیں اور وہ خود اپنے فضل سے ہما اسے ہماری حفاظت کرے اور ہمیں ہر دشمن کے شر سے محفوظ رکھے اور بے شمار برکتیں عطا فرمائے آنے والوں کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو مہمانوں کے لئے اس وقت چشم براہ ہیں اور اپنی پوری توفیق اور طاقت کے مطابق انشاء اللہ ان کی خدمت سر انجام دیں گے۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج جمعہ کی نماز کے بعد ایک نہایت ہی مخلص اور پیارے نوجوان کی نماز جنازہ بھی ہوگی ۔ طیب عارف جو ڈاکٹر تھے اور بالکل نوجوان ، مکرم محترم مولانا محمد یار صاحب عارف کے چھوٹے صاحبزادہ تھے۔ راولپنڈی سے غالباً جلسے کی نیت سے ہی اپنے خاندان کے ساتھ روانہ ہوئے ہوں