خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 648
خطبات طاہر جلد ۲ 648 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء دخل اندازی شروع کر دیتا ہے اسی نسبت سے اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔کبھی یہ واجب سے ٹکرا کر مقابل کا گناہ بن جاتا ہے، کبھی یہ فرض میں حائل ہو کر اس کے مقابل کا گناہ بن جاتا ہے، کبھی اللہ کا شریک بن جاتا ہے۔مثلاً ٹی وی کا پروگرام دیکھا جا رہا ہے اور مؤذن مسجد کی طرف بلا رہا ہے آپ وہاں نہیں جار ہے اور اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں تو وہ لغو جو عام حالات میں اور حیثیت رکھتا ہے شرعی طور پر اس موقع پر آکر واضح طور پر شرک بن جاتا ہے۔تو لغو کے مضمون کو آپ معمولی نہ سمجھیں۔لغویات کے اندر بہروپیہ پن پایا جاتا ہے۔مختلف حالات میں مختلف لغویات مختلف شکلیں اختیار کرتی رہتی ہیں۔پس کرکٹ کی کمنٹری کو ویسے تو اس کو لغو نہیں کہہ سکتے ایک صحت مند دلچسپی ہے۔اس کا شوق پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن جب یہ فرائض پر اثر انداز ہو، جب نیکی کے کاموں پر اثر ڈالے تو پھر نہ صرف لغو بلکہ حرام میں داخل ہو جاتی ہے۔پس جلسہ سالانہ کے ایام میں جلسہ کی تقریر میں نہ سننا اور کرکٹ کی کمنٹری سننا یہ ایک نہایت معیوب اور بھیانک شکل بنے گی اس لئے اہل ربوہ اس بات کا خیال رکھیں اور ان دنوں میں جب جلسہ کا پروگرام قریب آ رہا ہو تو نہ بازار میں اور نہ گھروں میں کمنٹری سنیں بلکہ ٹی وی اور ریڈیو سیٹ بند کر دیئے جائیں۔اگر احمدی نوجوان اپنی اس دلچپسی کے باوجود اللہ تعالیٰ اور اس کے نیک کاموں کی خاطر یہ قربانی کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ فعل پسند آ جائے اور کمزور ٹیم کے حق میں یہ بھی ایک گونہ دعا بن جائے۔تو اگر ان کو اپنی کرکٹ کی ٹیم سے سچی محبت ہے تو یہ بھی ایک ذریعہ ہے ان کو دعا دینے کا کہ اللہ کی خاطر اس سے احتراز کریں اور نیک کاموں کو ٹیم کی کارکردگی پر قربان نہ کریں بلکہ اس کمنٹری کو نیک کاموں پر قربان کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس سارے عرصہ میں دعاؤں سے اپنے لب معطر رکھیں ، اپنے دلوں کو دعاؤں کے ساتھ گداز رکھیں ، دن رات ہر احمدی کے دل سے ہر وقت دعائیں اٹھتی رہنی چاہئیں، ربوہ ان دنوں دعا کا ایک سمندر بن جائے اور جتنے مہمان ہیں یا میزبان ہیں وہ سب کے سب دن رات خدا تعالیٰ کو یاد کر رہے ہوں جیسا کہ فرمایا قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ ( آل عمران : ۱۹۲) یہ بڑی عجیب اور پیاری آیت ہے۔اس میں عبادت کے مضمون کو دن رات پر پھیلا کر اسے زندگی کا ایک حصہ بنا دیا گیا ہے۔ذکر الہی صرف چند اوقات کے لئے نہیں رکھا بلکہ دن اور رات پر اس کو پھیلا دیا، اٹھنے اور بیٹھنے صلى الله اور لیٹنے پر پھیلا دیا، سونے اور جاگنے پر پھیلا دیا۔جس وقت یہ آیت آنحضور ﷺ پر نازل ہوئی تو اتنا