خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد ۲ 647 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء ربوہ کی مساجد میں نمازوں کے اوقات یکساں ہوا کریں گے تا کہ اس بارہ میں کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے۔امید ہے نظارت اصلاح وارشاد نے اس دفعہ بھی یہ قدم اٹھا لیا ہو گا۔غرض سارے ربوہ میں پانچ نمازوں کے ایک ہی اوقات ہوں گے اور ان اوقات کا مہمانوں کو بھی علم ہونا چاہئے۔اس وقت آپ کی مہمان نوازی یہ نہیں ہے کہ آپ مہمانوں کی خاطر کر رہے ہوں اور مجلسیں لگ رہی ہوں۔اس وقت مہمان نوازی یہ ہے کہ بھائی اس وقت خدا کے گھر جا کر اس کے حضور عبادات بجالانے کا حق ہمارے گھر سے افضل ہے، آپ اللہ کے گھر کو ویران چھوڑ کر ہمارے گھر کو رونق نہ بخشیں اس لئے خدا کے گھر جائیں اور عبادت کرنے کے بعد پھر واپس آئیں شوق سے۔دوسرے مہمانوں کی روحانی مہمان نوازی کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ گھر میں سیرت کے مضامین پر باتیں کیا کریں ، ایمان افروز باتیں بیان کیا کریں۔آنحضرت ﷺ کی سیرت کے واقعات،صحابہ کی سیرت کے واقعات ، اسی طرح اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو سیرت کو دوبارہ زندہ کیا ہے وہ واقعات اور آپ کے اصحاب کے واقعات پر مشتمل ایسے ایک سے ایک بڑھ کر ایمان افروز واقعات ہیں جن سے مجلسوں کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے۔اس دفعہ ایک اور عمومی نصیحت بھی کرنا چاہتا ہوں جس کا تعلق ایک کھیل سے ہے اور وہ کرکٹ کا کھیل ہے۔اتفاق ایسا ہو رہا ہے کہ ۲۶ تاریخ کو جبکہ جلسہ شروع ہورہا ہے اسی تاریخ کو آسٹریلیا میں پاکستان کا چوتھا کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے۔یہ کھیل ہو تو رہا ہے آسٹریلیا میں جو یہاں سے ہزار ہا میل دور ہے یعنی وقت کے لحاظ سے بھی پانچ گھنٹے کا فرق ہے لیکن چونکہ کمنٹری ریلے ہو گی اس لئے بہت سے نوجوان کرکٹ کا اتنا شوق رکھتے ہیں کہ وہ باقی چیزیں بھول کر بھی کمنٹری سنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ فرائض کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔مجھے یہ خطرہ ہے کہ اگر گھروں میں اس وقت کمنٹری چل پڑی جبکہ جلسہ سالانہ پر لوگوں نے جانا ہوتا ہے تو یہ بہت ہی خطرناک غفلت ہو گی۔یہ وہ مواقع ہیں جہاں لغو حرام میں داخل ہو جاتے ہیں۔لغویات کا فلسفہ یہ ہے کہ ایسی چیز جو مختلف وقتوں میں مختلف روپ بدلتی جاتی ہے۔جب آپ کے پاس وقت ہو اور حالات ایسے ہوں کہ کوئی بہتر کام کرنے کو نہ مل رہا ہو تو اس وقت لغو سب سے معمولی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔اس کو آپ منع تو کر سکتے ہیں لیکن اس پر زیادہ سختی نہیں کر سکتے لیکن جوں جوں لغو آپ کی زندگی پر حاوی ہوتا چلا جاتا ہے آپ کے اوقات میں