خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 640 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 640

خطبات طاہر جلد ۲ 640 خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۸۳ء طور پر جو شہروں کے بازار ڈیزائن کئے جاتے ہیں وہ ایک خاص تعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈیزائن کئے جاتے ہیں لیکن جب جلسے ہوں ، میلے ہوں اور اس قسم کے غیر معمولی واقعات ہوں اور تعداد بہت بڑھ جاتی ہے تو اس موقع پر جو عام حقوق ہیں وہ بھی چھوڑنے پڑتے ہیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس بات کا خیال رکھیں کہ بازاروں میں ٹولیاں بنا کر کھڑے نہ ہوں اور جہاں تک ممکن ہو کم سے کم وقت بازاروں میں ٹھہریں، اپنی ضرورت کا کام کریں اور فارغ ہو کر بازاروں سے نکل جانے کی کوشش کریں۔ ب ۔ بازاروں میں عموماً Bottle Necks یعنی تماش بینی وغیرہ کی وجہ سے آمد ورفت اور حم حمل و نقل میں دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں گزرنے والوں کے لئے تکلیف کا موجب بن جاتی ہیں ۔ دوسرے ہمارے یہاں ایک لمبے عرصہ سے تربیت دی جا رہی ہے کہ عورتیں الگ رستوں پر چلیں اور مرد الگ رستوں پر ۔ اس کے لئے منتظمین نے باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہوں گی اور موقع پر اور مردانگ پر۔ کے لئے خدمت خلق کے کارکنان بھی بات واضح کر دیں گے۔ اگر چہ دیکھ کر خود بخود بھی پتہ لگ جائے گا لیکن اصل بات یہ ہے کہ از خود اندازہ لگا کر عادت ڈالنی چاہئے کہ جو کام جس طریقے اور سلیقے سے ہورہا ہو آپ بھی اس کا جزو بن جائیں اور کسی کو آپ کو کہنے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ چیز غیر ملکوں میں تو اتنی عادت راسخہ بن چکی ہے کہ مثلاً سلیقہ کے ساتھ چلنا ایک عام خلق میں داخل ہے۔ جو بڑی بڑی سڑکیں ہیں جہاں تیز ٹریفک ہوتی ہے وہاں لوگ پیدل نہیں چلتے وہاں از خود ایک طرف چلتے ہیں اور اس کے علاوہ جہاں سے سڑک عبور کرنی ہوتی ہے تو اس کے لئے بعض خاص سلیقے اور اطوار مقرر ہوتے ہیں۔ ربوہ میں چونکہ اسلامی معاشرہ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اس لئے یہاں ایک چیز زائد ہے کہ نہ صرف یہ کہ عام سڑکوں کے حقوق ادا کرنے ہیں بلکہ اسلامی معاشرہ کے مطابق عورتوں کے لئے الگ رستے مقرر کرنے ہیں اور مردوں کے لئے الگ اور چلتے وقت کسی عورت کے لئے اس احتیاط کی ضرورت ہی پیش نہ آئے کہ وہ اوپر کا بدن بچا کر گزرے الله تا کہ غیر مردوں سے ٹکرائے نہیں اور عموماً اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں ایسا انتظام چلتا ہے۔ بازاروں کے حقوق سے تعلق رکھنے والا دوسرا پہلو اِماطَةُ الَّا ذَى عَنِ الطَّرِيقِ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ راستوں سے تکلیف دہ چیزوں کو دور کیا جائے۔ (الجامع الحيح البخارى كتاب الهبة وفصلها والتحريض عليها باب فضل المنیحہ تکلیف دہ چیزوں میں وہ گندگی بھی شامل ہے جو سڑکوں پر پھینک دی جاتی ہے یہاں تک کہ کاغذ کے ٹکڑے بھی نظر کو تکلیف دیتے ہیں ۔ کوئی چیز