خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد ۲ 639 خطبه جمعه ۲۳/ دسمبر ۱۹۸۳ء جلسه سالانہ میں مہمان نوازی کے فرائض (خطبه جمعه فرموده ۲۳ دسمبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: جلسہ سالانہ کی آمد آمد ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مہمان پہنچنے شروع ہو گئے ہیں۔غیر ملکی مہمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد پہنچ چکی ہے اور پاکستان کے مہمانوں میں سے بھی بہت سے جو ملازم نہیں یا کسی وجہ سے وقت سے پہلے رخصت لے کر پہنچ سکتے تھے وہ بھی تشریف لے آئے ہیں۔اس موقع پر بعض ذمہ داریوں کی طرف میں احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ہر سال جلسہ سے پہلے اس خطبہ میں عموماً اسی مضمون پر خطاب کیا جاتا ہے۔سب سے پہلی بات تو بازار کے حق ادا کرنے سے متعلق ہے۔آنحضور ﷺ نے جہاں ہر زندہ چیز کے حقوق بیان فرمائے وہاں بعض جگہوں کے حقوق بھی مقرر فرمائے۔عملا تو ان کا تعلق زندہ چیزوں سے ہی ہے لیکن نام بظاہر ایسی چیزوں کا استعمال ہوا ہے جن میں جان نہیں مثلاً بازاروں اور سڑکوں کے حقوق۔اور اسی تعلق میں پھر وہ لوگ جو وہاں چلتے پھرتے ہیں ان کی ذمہ داریاں بیان فرمائی گئی ہیں۔چنانچہ بازاروں کے حقوق میں سے ایک تو یہ حق ہے کہ جو لوگ بھی بازاروں کو استعمال کریں تو وہ اس رنگ میں استعمال نہ کریں کہ وہ دوسروں کے لئے تکلیف کا موجب ہو خصوصاً ان دنوں میں جبکہ عام بازاروں کے ڈیزائن سے بہت بڑھ کر تعداد آ جاتی ہے یعنی عام۔