خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 611 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 611

خطبات طاہر جلد ۲ 611 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء امانت ضائع ہو جائے تو آپ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔قرض ضائع ہو تو چونکہ آپ نے اس سے استفادہ کیا تھا اور آپ نے مانگ کر لیا تھا اس لئے آپ کو لازماً ادا کرنا پڑے گا۔یہ سوال نہیں کہ جی نقصان ہو گیا میں نہیں دے سکتا۔پس یہ جو دو تین فرق ہیں اسے ملحوظ رکھیں۔صلى الله چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جب عہدے مانگنے سے متعلق منع فرمایا کہ کسی عہدہ کی خواہش نہیں کرنی تو اس لئے کہ وہ قرض نہیں امانت ہے۔جتنی ذمہ داریاں ہیں وہ ساری امانتیں ہیں۔چنانچہ جب بعض لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ علیہ سے یہ خواہش کی کہ ہمیں فلاں جگہ کی ولایت دے دیں یا فلاں جگہ کی امارت دے دیں تو آپ نے فرمایا کہ بالکل نہیں ، یہ وہ امانت ہے جو مانگی نہیں جائے گی۔یہ میرا کام ہے اور میرے سپرد ہے کہ میں جسے تم میں سے بہترین سمجھوں اس کے سپر د کروں۔تمہارا یہ کام ہی نہیں کہ امانت مانگو۔فرمایا کہ جو شخص امانت نہیں مانگتا بلکہ اس کے سپرد کی جاتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ اس کا مؤکل ہو جاتا ہے ، اس کے لئے آسانی پیدا فرما دیتا ہے اور جو شخص خواہش کر کے لیتا ہے تو وہ امانت اس کے لئے بوجھ بنادی جاتی ہے، وہ اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکتا۔( الجامع الصحیح البخاری کتاب الأيمان والنذ رباب قول اللہ لا یا اخذكم الله بالغوفی ایمانکم) پس امانت اور قرض کے فرق کوملحوظ رکھیں۔امانت میں آپ کو کسی شخص نے از خود دیا ہے۔دنیا کے لین دین میں جب ہم قرض سے فرق کرنے کے لئے امانت کی بات کرتے ہیں تو مطلب یہ بنے گا کہ آپ نے کوئی خواہش نہیں کی بلکہ ایک شخص کو ضرورت تھی اس نے آپ کے پاس اپنا روپیہ رکھوا دیا۔ایسی صورت میں آپ کا کچھ احسان اس پر ہو جاتا ہے کیونکہ آپ نے ذمہ داری قبول کر لی۔اس کا ثواب اللہ تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے گا لیکن جب آپ قرض لیتے ہیں تو آپ امین بھی ہیں اور زیر احسان بھی آ جاتے ہیں۔پس جو قرض میں لیت و لعل کرتا ہے کہ میں نہیں دے سکتا ضائع ہو گیا، فلاں بات ہوگئی ، وہ تو احسان کش بھی ہے۔بہت سے جھگڑے اور ایسی شکائتیں ملتی رہتی ہیں کہ فلاں شخص نے قرض لیا تھا اور اسے ادا نہیں کیا۔یا بعض اوقات نہایت تکلیف دہ صورت میں ادا کرتے ہیں کہ آج روپے کی قیمت اور ہے قرض ادا کرتے ہیں سال لگا دیئے جبکہ اصل سے اس کی کوئی نسبت ہی نہیں رہتی۔جب واپس ہورہا ہوتا ہے تو عملاً اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہوتی۔پس قرض کو وقت پر وعدہ کے مطابق ادا کرنا یہ امانت سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ اس