خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد ۲ 610 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء مجھ سے خائن کے بارہ میں کوئی سفارش کریں۔قرآن کریم انبیاء کو کھلم کھلا تا کید فرماتا ہے کہ خائنوں کے بارے میں کوئی جھگڑا کوئی بحث نہیں کرنی۔گو یا خیانت شفاعت سے محرومی ہے اس لئے جو ہماری کمزوریاں ہیں خواہ غفلت کی وجہ سے خطاؤں کی وجہ سے یا عمداً گناہ ہو ایک جو تمنا ہوتی ہے کہ قیامت کے دن حضور اکرم ہے شفاعت فرمائیں گے تو قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کی شفاعت سے خدا روک دے گا جو خائن ہوں۔پس جو شخص دنیا میں لین دین کے معاملات میں امانت کا حق ادا نہیں کر سکتا اس کا یہ تصور ہی غلط ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی امانتوں کے حق ادا کر رہا ہے ، وہ عبادت کر رہا ہے وہ روزے رکھ رہا ہے۔یہ ساری بعد کی باتیں ہیں جب تک وہ اندرونی طور پر ٹھیک ٹھاک نہیں ہو جاتا، جب تک اس کا نفس برابر نہیں ہو جاتا اس وقت تک خدا تعالیٰ سے تعلق کا سوال ہی کوئی نہیں۔سب سے زیادہ جھگڑے لین دین کے ہیں یعنی پیسے کے معاملے میں انسان اتنا کمزور ہے اتنا حریص اور تو کل سے عاری ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں جب تک خدا تعالیٰ کے قانون توڑ کر پیسے نہ لے لوں اس وقت تک میرا گزارہ مشکل ہے، اس وقت تک میرا کوئی کفیل نہیں ہو سکتا۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں انسان کو بھول کر بے انتہا ناشکری کرتا ہوا انسان خیانت کر جاتا ہے۔میرے سامنے ایسے معاملات آتے رہتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی پر احسان کیا اسے ایسے وقت میں اپنا مکان دیا جب اسے سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی اور بعض صورتوں میں کرایہ بھی وصول نہیں کیا اور جب اس نے آ کر کہا کہ اب مجھے ضرورت ہے مکان دے دو تو کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، ہم کہاں جائیں، ہم اپنا سر کہاں چھپائیں۔اب یہ جو امانت میں خیانت ہے اس میں ایک اور بھی عصر داخل ہو جاتا ہے یعنی بے شرمی ، بے حیائی اور ناشکرے پن کا۔تو انسان تو ناشکرا اور بے حیا ہو کر بھی خیانت پر آمادہ ہو جاتا ہے۔جب آپ کسی سے قرض لیتے ہیں تو یہ صرف امانت نہیں بلکہ اس میں احسان بھی شامل ہوتا ہے۔امانت اور قرض میں ایک فرق ہے۔ویسے تو قرآن کریم نے قرض کو بھی امانت کے تابع بیان فرمایا ہے لیکن عام امانت اور قرض میں ایک فرق یہ ہے کہ آپ امانت استعمال نہیں کر سکتے جب تک کہ امانت رکھنے والا استعمال کی اجازت نہ دے اور جب وہ اجازت دے دے تو اسی کا نام قرض ہو جا تا ہے۔ایک اور فرق یہ ہے کہ امانت مانگ کر نہیں لی جاتی اور قرض آپ مانگ کر لے سکتے ہیں۔