خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 609
خطبات طاہر جلد ۲ 609 خطبه جمعه ۲/ دسمبر ۱۹۸۳ء امین نہ ہو۔پس ان معنوں میں انسان مومن ہے اور انسان جتنا مومن ہوتا ہے اتنا ہی اس کے لئے اللہ مومن ہوتا چلا جاتا ہے۔جس حد تک وہ اللہ تعالیٰ کا خوف کھا کر اس کو مطمئن کرتا ہے اسی حد تک اللہ تعالیٰ اس کے خوف دور کرتا چلا جاتا ہے اور ان چیزوں میں وہ ضامن ہو جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت نے مختلف رنگ میں اس مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ جو مومن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہو جاتا ہے، اس کا کفیل ہو جاتا ہے، اس کی ذمہ داریاں قبول فرمالیتا ہے۔پس اللہ مومن ہے ان معنوں میں کہ جس حد تک انسان خدا پر ایمان لائے یا خدا کو اپنی ذات سے ان سارے معاملات میں امن دے تو اللہ تعالیٰ اس کا کفیل ہو جائے گا اور اس کا نگران ہو جائے گا اور اس کی حفاظت فرمائے گا اور اسے بے خوف کر دے گا اور جس حد تک وہ خدا کو امن نہیں دیتا اسی حد تک وہ امن کے مقام سے نکل کر خوف کے مقام میں داخل ہو جاتا ہے۔جتنے قدم وہ خدا کی رضا سے باہر رکھے گا اتنے ہی قدم وہ خطرات سے باہر رکھ رہا ہو گا۔پس امانت ایک بہت ہی اہم خلق ہے اور امانت یعنی خدا کی امانت ادا نہیں ہو سکتی جب تک انسان انسان کے لئے امین نہ ہو، پہلے انسان بنا پڑے گا پھر انسان کامل کی باری آتی ہے اور پھر اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں جو فرمایا ہے: فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (ص: ۷۳) اس میں وہی مضمون ہے کہ پہلے تم ٹھیک ٹھاک تو ہو پھر نفخ روح کا سوال ہوگا جب میں تمہیں ٹھیک کر لوں گا ، جب تمہارے اخلاق درست کرلوں گا تب یہ سوال پیدا ہوگا کہ میں تم پر الہام کروں ،ہم پر وحی کروں اور تمہارا مجھ سے تعلق پیدا ہو۔اگر تمہارے اخلاق بگڑے ہوئے ہوں ،تم انسان ہی نہ کہلا سکتے ہو اور یہ خواہش اور تمنا رکھو کہ اللہ تعالیٰ الہام کرے اور وحی فرمائے ، سچی خوا ہیں دکھائے اور خدا تعالیٰ نصرت فرمائے تو یہ ساری خیالی باتیں ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ حق امانت بہت ہی اہم خلق ہے۔حق امانت کی کتنی اہم ذمہ داری ہے اور امین ہونا کتنا بڑ اخلق ہے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہوتا ہے اور جتنا کوئی خائن ہوتا چلا جائے اتنا ہی اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق ٹوٹتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ انبیاء کومنع فرما دیتا ہے کہ