خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد ۲ 588 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۳ء اس وقت ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان کیڑیوں کو خدا تعالیٰ نے یہ بھی توفیق بخشی ہے کہ ابھی وہ گرج بھی نہیں رہے ہوتے تو ان کو پتہ لگ جاتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے اور وہ اپنے سوراخوں سے اپنی بلوں سے ضرورت کی چیزوں کو اونچی جگہوں کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیتی ہیں ۔ آپ نے کئی دفعہ دیکھا دیکھا ہوگا کہ بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ اچانک کیریوں کو یہ جنون اٹھ گیا ہے کہ وہ اپنے انڈے اٹھا اٹھا کر بلوں سے لے کر دیواروں پر چڑھ رہی ہوتی ہیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ان میں یہ ملکہ رکھا ہے کہ وہ آنے والے خطرات کو بھانپ لیتی ہیں اور اس کے مطابق پھر وہ کارروائی شروع کر دیتی ہیں ۔ تو گرجتے ہوئے بادلوں کے وقت انسان بھی حسب توفیق کوشش کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ تم نے کیا کرنا ہے، تم نے اپنے دل کے صحنوں کو صاف کرنا ہے ، تم نے اپنے تقویٰ کا خیال کرنا ہے، تم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا واقعی تم اللہ سے محبت رکھتے ہو، تم نے یہ دیکھنا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا بھی کر رہے ہو کہ نہیں ۔ اگر حسب توفیق تم مخلص ہو، اگر حسب توفیق تم خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھانے کی کوشش کرتے ہو، اگر تمہارا رخ اپنے مولیٰ ہی کی طرف ہے تو پھر اللہ تمہیں بتاتا ہے اور اللہ تمہیں تسلی دیتا ہے کہ ہرگز تمہارا غیر تمہیں گمراہ قرار دینے والا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا تم خدا کی حفاظت میں ہو، تم اللہ کی رحمت کے سائے تلے ہو، تم اللہ کے فضلوں کے وارث بنائے جانے والے ہو اس لئے یہ بارش یہ بادل جو گرج رہے ہیں یہ تمہارے لئے بجلیاں لے کر نہیں آئیں گے بلکہ تمہارے پر رحمتوں کی بارش کر کے واپس جائیں گے۔ روزنامه الفضل ربوه ۴ دسمبر ۱۹۸۳ء)