خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد ۲ 574 خطبه جمعه ۱۱ نومبر ۱۹۸۳ء دوران ہم زیادہ تر لازمی چندہ جات اور وصیت کے چندوں پر زور دیتے رہے اس لئے میں نے یہ کہا تھا کہ وہی لوگ اس تحریک میں شامل ہوں جو اپنے چندے شرح کے مطابق ادا کرتے ہیں اور حسب توفیق جتنا وہ دے سکتے ہیں اس تحریک میں بھی دیں لیکن بہت زیادہ بوجھ نہ اٹھائیں۔چنانچہ اس عام تحریک کے نتیجہ میں جس کی یاد دہانیاں نہیں کرائی گئیں، کوئی خطوط نہیں لکھے گئے ، الفضل میں بار بار اس کی تحریکات نہیں کی گئیں، خدا تعالیٰ کے فضل سے 14,83,833 روپے وصول ہو چکے ہیں اور اس میں سے اب تک جو خرچ ہوا ہے وہ 2,56,800 روپے ہے جس سے ایسے 42 افراد کو مدددی گئی ہے جن کے مکانات مثلاً مرمت کے محتاج تھے اور خطرہ تھا کہ اگر مرمت نہ کی گئی تو منہدم ہو جائیں گے یا بے پردگی ہوتی تھی مثلاً چار دیواری نہیں تھی کسی غریب نے دو کمرے ڈال لئے لیکن چاردیواری نہیں تھی یا بعض کے گھروں میں غسل خانے نہیں تھے، کسی کے پاس باورچی خانہ نہیں تھا، کسی کے اہل خانہ زیادہ تھے اور اس کے مقابل پر جگہ کی بہت دقت تھی ، ایک ایک کمرے میں گھر کی بیٹیاں بھی اور نو بیاہتا جوڑا بھی ہے غرض جو لوگ فوری مدد کے محتاج تھے ان کی مدد کی گئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے 42 خاندانوں نے اس سے استفادہ کیا ہے۔لیکن جو اصل کام پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ وسیع پیمانے پر گھروں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا جائے تا کہ بعض غربا کو بنا بنایا پورا گھر مہیا کر دیا جائے۔اس سلسلہ میں میں نے ساتھ ہی یہ تحریک کی تھی کہ ہماری جماعت کے آرکیٹیکٹس اور انجینئر زایسی سکیمیں بنا کر بھیجیں کہ ہمارے عام ملکی حالات کے لحاظ سے اور دونوں موسموں کے اعتبار سے موزوں مکان کیسے بنائے جا سکتے ہیں جوستے بھی ہوں اور اچھے بھی ہوں۔چنانچہ کئی انجینئر ز نے خدا کے فضل سے بڑی محنت سے بعض منصوبے بنا کر بھیجے ہیں جو اس وقت زیر غور ہیں۔اگر ان میں سے کوئی اچھا نقشہ مل گیا تو اس کے مطابق ہم انشاء اللہ تعمیرات کا کام بھی شروع کر دیں گے۔ادھر زمین بھی زیر نظر ہے وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ حاصل کر لی جائے گی۔ایسی (Colonies) نئی آبادیاں تعمیر کرنے کا خیال ہے جن میں گھر مکمل کرنے کے بعد بعض ایسے خاندانوں کے سپرد کر دیئے جائیں گے جو غربت کے باوجود جماعتی اخلاص اور خدمتوں میں بھی نمایاں ہوں کیونکہ جہاں تک ضرورت کا تعلق ہے وہ تو غیر محدود ہے اس لئے لازماً پہلے ہمیں کوئی طریق کار اختیار کرنے پڑے گا، بعض لوگوں کو ترجیح دینی پڑے گی کوئی ایسا راستہ ڈھونڈنا