خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 565
خطبات طاہر جلد ۲ 565 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۳ء جا سکتی تو بیٹھنے کا انتظام کر دیں کہ مہمان نیچے بیٹھ کر چھوٹی چھوٹی پیڑھیوں پر اپنا شیو بناسکیں یا جس نے ڈاڑھی بنانی ہے وہ ڈاڑھی بنائے۔ مگر شیشے اور پانی ہونا چاہئے کہ یہ سب سے بڑی ضرورت ہے۔ م اور ہونا کہ یہ سے عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک غسل خانہ کافی ہے لیکن ایک کافی نہیں ہوتا۔ جہاں غسل خانے کے لئے اسی آدمیوں کی لائن لگ جائے ۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس طرح کتنا وقت ضائع ہوتا ہے۔ اسی طرح عارضی طور پر چھوٹے چھوٹے Toilets بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ جگہ جگہ بور کروا کر پردہ کا انتظام ہو جائے تو معمولی بات ہے اتنا بڑا خرچ نہیں ہے بہر حال اس سلسلہ میں جلسہ سالانہ کا انتظام بھی مدد کرتا ہے۔ پس گھروں میں Toilets اور لیٹریز بڑھانے کی ضرورت ہے اور جہاں تک ممکن ہے زیادہ انتظام کیا جائے ۔ سجاوٹ بھی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اپنی زینت لے کر جایا کرو۔ (الاعراف: ۳۲) اصل زینت تو وہ اندرونی سجاوٹ ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں لیکن ظاہری سجاوٹ اور ظاہری زینت بھی سنت ہے اور آنحضرت رض ہ خود بھی صاف ستھرے اور پاکیزہ اور زینت اختیار کرنے والے تھے اور آپ کے صحابہ بھی جہاں تک توفیق تھی ایسا ہی کرتے تھے۔ پس گھروں کی زینت بھی مہمان نوازی کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ اس میں بعض محلے اگر چاہیں تو ایک رنگ اختیار کر سکتے ہیں ۔ رنگ اکٹھا منگوا لیا جائے جو ستا ر ہے گا اور پھر بعض محلے ایک خاص رنگ کا پیٹرن بنا سکتے ہیں کہ ہمارے محلہ کی سڑک کی طرف سے نظر آنے والی دیواروں کا یہ رنگ ہوگا اور دروازوں کا یہ رنگ ہوگا۔ اگر تخمینے تیار کئے جائیں تو بہت معمولی خرچ پر یونیفار میٹی آجائے گی اور ایک ہی رنگ میں بعض محلے اچھے بھی لگیں گے اور یہ نظارہ دیکھ کر اہل محلہ کو بڑا لطف آئے گا۔ یہ صرف مہمانوں کے لئے نہیں بلکہ ان کے اپنے بھی کام آنے والی چیز ہے۔ سجاوٹ سے طبیعت میں بشاشت پیدا ہوتی ہے۔ پہلے کی نسبت زندگی زیادہ آسان ہو جاتی ہے اور پھر اسی گھر میں زیادہ لطف آنے لگتا ہے جہاں زینت ہو۔ زینت کے لئے ضروری نہیں کہ لاکھوں یا کروڑوں روپے کا انتظار کیا جائے ۔ غریبانہ زینت بھی ہوتی ہے اس لئے سلیقہ چاہئے ۔ ارادہ ہو تو زینت اختیار کرنا اتنا مشکل کام نہیں ۔ اگر صحنوں اور گلیوں کی صفائی ہو گی تو زینت بھی ہوگی ، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ او پر سجاوٹ ہو اور نیچے گند ہو۔