خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 553
خطبات طاہر جلد ۲ 553 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۳ء بیرونی ممالک کے چندہ دہندگان کی تعداد کے لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ نے غیر معمولی فضل فرمایا ہے اور اس میں بھی تحریک جدید کی رپورٹ کے مطابق بجنات کو بہت بڑی خدمت کی توفیق ملی ہے۔چنانچہ لجنات میں سے برطانیہ، کویت ، مسقط ، جاپان، کینیڈا، منفی ، سویڈن، مغربی جرمنی ، ہالینڈ سرینام ، ڈیٹن اور بالٹی مور امریکہ کی لجنات نے نمایاں کام کیا ہے۔معلوم ہوتا ہے امریکہ کی اکثر لجنات کو توفیق نہیں ملی صرف ڈیٹن اور بالٹی مور کی لجنات نے غیر معمولی کام کیا ہے بہر حال ان کی کوششوں کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت عطا فرمائی۔چنانچہ بیرون پاکستان کی جماعتوں کے وعدہ کنندگان کی تعداد گزشتہ سال صرف ۲۰۲۸ تھی اس کے مقابل پر اس سال ۱۳٫۴۷۰ تک پہنچ گئی ہے یعنی وعدہ کنندگان کی تعداد میں ۴۴۲ ا ا کا اضافہ ہوا ہے۔پس کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں ہے جس میں ہم تشنگی محسوس کریں اور تحریک جدید کی طرف سے جتنی کوشش کی گئی ہے اس کو ان پھلوں سے کوئی نسبت نہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں حالانکہ وہی عام کوشش ہے جو ہمیشہ ہوتی ہے وہی وکیل مال ہیں ، وہی عملہ ہے، عملے میں بھی کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا اور اسی طرح اخلاص سے دن رات کوشش کر رہے ہیں جس طرح پہلے کیا کرتے تھے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ جماعت کو فضلوں کے ایک نئے دور میں داخل کر رہا ہے اور ہمارے اوپر نئی ذمہ داریاں ڈالنے والا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب زاد راہ بڑھایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لمبا سفر درپیش ہے۔جب قوتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو مارچ آرڈر (March Order) سے پہلے ساری تیاریاں مکمل کر لی جاتی ہیں۔پس درحقیقت جو اصل فضل ہیں وہ تو ابھی سامنے پڑے ہوئے ہیں۔یہ تو فضلوں کے حصول کا ایک ذریعہ ہے جو مہیا کیا جارہا ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے اور جیسا کہ دوسری علامتوں سے بھی بڑا قطعی طور پر ظاہر ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کے لئے جماعت سے عظیم الشان خدمات لینے والا ہے اور ان خدمات کے لئے ہمیں زاد راہ مہیا فرما رہا ہے، جماعت کے اخلاص کو بڑھا رہا ہے،ایمان کو بڑھا رہا ہے،قربانیوں کی توفیق کو بڑھا رہا ہے ، وقف کی روح میں نئی جلا پیدا کر رہا ہے اور ہر پہلو سے ہمیں تیار کیا جا رہا ہے کہ آگے بڑھو اور ساری دنیا کو محمد مصطفی عملے کے لئے جیت لو۔اس مبارک دور میں ہم داخل ہونے والے ہیں اور ہورہے ہیں۔یہ کوئی ایسی دیوار تو نہیں ہوا کرتی کہ اس کو پھلانگا تو نیا دور شروع ہو گیا۔