خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 542

خطبات طاہر جلد ۲ 542 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۳ء ہورہا تھا اس لئے میں نے سوچا کہ خواہ کچھ بھی ہو آسٹریلیا پہنچ جاؤں اس طرح کچھ اور ساتھ رہنے کا موقع مل جائے گا۔وہاں وہ مکمل طور پر نہ صرف ساتھ رہے بلکہ خدمت کا اس قدر شوق تھا کہ مقامی خدام سے بھی منت کر کے اور مانگ کر وقت لے لیا تھا اور پھر دوبارہ والنٹیئر ز میں شامل ہو گئے اور وہاں انہوں نے بڑی حکمت اور محبت سے دن رات جماعت کی خدمت کی۔پس یہ وہ کیفیات ہیں جن کا بیان کرنا بھی ممکن نہیں اور ان کا شکر ادا کرنا بھی ناممکن ہے۔میں یہ باتیں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ آپ بھی خاص طور پر اپنے دلوں کو ٹولیں اور توجہ کریں۔خدمت دین کے لئے نئی نئی تو میں آگے بڑھنے کو تیار ہورہی ہیں اور بڑا بلند اور پختہ عزم رکھتی ہیں۔اب آپ کا ان سے مقابلہ ہونا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ جماعت احمدیہ پاکستان خدا کے فضل سے بڑی مخلص ہے اور اخلاص میں مزید ترقی کر رہی ہے میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کو بر وقت متنبہ کر دوں کہ آپ لاعلمی میں نہ بیٹھے رہیں کہ بعض دور کی جماعتوں سے آپ کا مقابلہ ہے جن کی تربیت نہیں ہے۔اچھی تربیت نہ ہونے کے باوجود اب وہ اس بات کے لئے تیار کھڑی ہیں کہ پورے زور سے آپ کے ساتھ دوڑیں اور فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ کی دوڑ میں حصہ لیں اور ساتھ ہی دعاؤں کی طرف بھی توجہ کریں کیونکہ اس عظیم الشان کام کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد فرمایا ہے دعاؤں کی بے انتہا ضرورت ہے۔یہ تو طویل داستان ہے میں نے سوچا ہے کہ باقی حصہ انشاء اللہ تعالیٰ اجتماع پر بیان کروں گا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا نجی کی باتیں بھی ایک آدھ گھنٹہ میں بیان کرنی ناممکن ہے۔آج انشاء اللہ اجتماع ہوگا۔نمازیں جمع ہوں گی اور اس کے بعد ہم ساڑھے تین بجے مقام اجتماع میں اکٹھے ہوں گے۔نجی کے مضمون کا بقیہ دوسرا حصہ میں وہاں بیان کروں گا۔اس وقت تو میں صرف دعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔دعاؤں کی شدید ضرورت ہے کیونکہ جیسا کہ ہمارے سفر کے ایک ساتھی چوہدری انور حسین صاحب نے واپس آکر تبصرہ کیا بالکل وہی کیفیت میں اپنے دل کی پاتا ہوں۔انہوں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ہم ذمہ داریوں کے پہاڑ لے کر واپس لوٹے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایک ایک ملک میں جو خدمت کے نئے مواقع میسر آئے ہیں وہ بہت وسیع