خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 538
خطبات طاہر جلد ۲ 538 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء کے بھی قائل ہیں ۔ اس کے علاوہ قبائل کے اپنے اپنے اولیاء ہیں جنہیں خدا بنا لیا گیا ہے اور انہیں بہت اہمیت حاصل ہے۔ بعض اوقات نیشنل ہیرو کو جس نے کسی زمانہ میں اپنی قوم کی بڑی خدمت کی ہو بہت اونچا مقام دے دیا جاتا ہے۔ جس طرح مردہ پرستی کا رجحان دنیا میں ہر جگہ پایا جاتا ہے، وہاں بھی پایا جاتا ہے۔ تو وہاں بھی رفتہ رفتہ ان مردوں کو خدا کا مقام دے دیا گیا ہے۔ کوئی مردہ جنگ کے لئے مفید ہے کوئی بارشوں کے لئے اور کوئی کھیتی باڑی میں برکت دینے کے لئے غرض کہ کئی قسم کے تو ہمات ہیں جس نے قوم کو گھیر رکھا ہے۔ فجین جادوگری کے بہت قائل ہیں اور آج بھی اس قوم میں پرانے زمانہ کی روایات کے مطابق جادو گر موجود ہیں جو برکت دیتے ہیں اور لوگ ان سے مشکلات حل کرواتے ہیں نیز اپنے دشمنوں کے خلاف تعویذ حاصل کرتے ہیں ۔ غرضیکہ جہالت کی جتنی باتیں ممکن ہو سکتی ہیں وہ ساری اس قوم میں موجود ہیں ۔ اس ملک میں مجھے احمدیوں کی تعداد آٹھ ہزار بتائی گئی لیکن میرے نزدیک اس سے کم ہے۔ چند ہزار کہہ سکتے ہیں لیکن جو احمدی موجود ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھنے کی غیر معمولی طاقتیں موجود ہیں ۔ سب سے اہم بات جو احمدیوں سے متعلق قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ تربیت حاصل کرنے کا مادہ بہت پایا جاتا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت ان کی کیفیت بالکل مختلف تھی اور وہاں بہت جلدی یہ محسوس ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہاں ایک لمبے عرصہ سے مبلغین موجود رہے ہیں لیکن نظام جماعت کو سمجھانے کے سلسلہ میں بہت ہی معمولی کام ہوا ہے اور اکثر شکایتیں جو بچی کی جماعت کے بعض دوستوں سے متعلق یہاں آیا کرتی تھیں ان کی بنیادی وجہ ان کے ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ نظام جماعت سے لاعلمی ہے اور یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ مبلغین نے یہ محنت اور کوشش ہی نہیں کی کہ انہیں نظام جماعت سے متعلق کچھ باتیں بتائیں ۔ اس میں بعض صورتوں میں ان کا قصور نہیں ہے کیونکہ ان کی توجہ جاتے ہی زیادہ تر تبلیغی کاموں میں لگ جاتی ہے اور ربوہ قادیان کے تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کے احساس کا معیار بڑا بلند ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کے دماغ میں نظام جماعت اس طرح رچ چکا ہوتا ہے کہ اس کے خلاف معمولی سی بات سے وہ مشتعل ہو جاتے ہیں، گھبرا جاتے ہیں اور پریشان ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے مبلغین نے یہ نہیں سوچا ( ان کی غیرت نظام جماعت لئے