خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 525 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 525

خطبات طاہر ۲ 525 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء نجی میں جماعت احمدیہ کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔غیر از جماعتوں مسلمانوں کی تعداد ہمارے مقابل پر نہ صرف بہت زیادہ ہے بلکہ وہ مؤثر بھی ہے اور اتنے مؤثر ہیں کہ نہ صرف وہ نجی کی موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں بلکہ ہمیشہ ہی وہ حکومت کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کا لازماً ایک وزیر ہوتا ہے۔وہ فحسین قوم ہے اور اس وقت وہاں حکومت کرتی ہے ان کو اسلام کا کچھ پتہ نہیں ،تفریق کا کوئی علم نہیں اور فرقوں کی تقسیم کا کوئی پتہ نہیں وہ اپنا جو کچھ تاثر لیتے ہیں ان مسلمانوں سے لیتے ہیں۔اگر کوئی مسلمان کہلا ئے گا تو وہ ان سے پوچھیں گے کس قسم کا ہے اس کو منہ لگانا چاہئے یا نہیں لگانا چاہئے۔ان حالات میں نجی کے احمدی بھی پریشان تھے اور میں بھی فکر مند تھا لیکن مایوس نہیں تھا۔مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے انتظام کرے گا کہ وہاں تبلیغ کے راستے کھول دے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ناندی میں جہاں ہم نے پہلے دن ہوائی جہاز سے باہر قدم رکھا۔وہاں کے میئر ائیر پورٹ پر تشریف لائے اور اس لحاظ سے انہوں نے بڑے خلق کا مظاہرہ کیا اور اس کے بعد دوسرے دن ان کی دعوت پر ہم Civic Center پر لیکچر کے لئے بھی گئے۔اس اثنا میں اتنی تفصیل سے جماعت کی مخالفت میں تنظیم قائم کر دی گئی تھی کہ ایک ایک مسلمان کو یہ پیغام پہنچایا گیا تھا کہ تم نے احمدیوں سے کلیتہ بائیکاٹ کرنا ہے ان کے کسی جلسے میں شامل نہیں ہونا اور پھر غیر مسلم محبین کو بھی ڈرایا جا رہا تھا اور ان کو بھی روکا جار ہا تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہوا تھا اور جیسا کہ میں نے کہا ہے جب مالک فیصلہ کر لے تو جو مالک نہیں ہے اس کا بس نہیں چلتا، بے چارے کی خواہش ہی رہ جاتی ہے، ایک حسرت رہ جاتی ہے ، وہ کچھ کر نہیں سکتا۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں کے لئے بے بسی کا ایسا عالم تھا کہ باقیوں کو تو چھوڑ ووہاں کے ایک بہت بڑے لیڈر جن کا میں اس وقت مصلحنا نام نہیں بتانا چاہتا ان کی بیٹی بھی تقریر سننے کے لئے وہاں پہنچ گئی اور وہ شدید مخالف ہی نہیں تھی بلکہ اس نے پورا مطالعہ کیا ہوا تھا اس لٹریچر کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بالکل غلط تاثرات بلکہ نہایت ہی خوفناک تاثرات قائم کرتا ہے۔اس نے اپنے والد سے کتابیں لے کر ان کا بڑا گہرا مطالعہ کیا ہوا تھا وہ بھی اس مجلس میں موجود تھیں۔فجیز بھی تھے اور غیر از جماعت مسلمان بھی تھے۔اگر چہ بائیکاٹ تھا لیکن بعض علما نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنے ساتھیوں کو لے کر وہاں پہنچیں گے اور ایسے اعتراض کریں گے کہ ان کی کوئی پیش نہیں جائے گی اور یہ بھی کہ ہم ان کو ذلیل و رسوا کر دیں گے۔