خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 519
خطبات طاہر ۲ 519 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ Utopia ( نیٹو پیا یعنی مثالی معاشرہ ) جولوگوں کے تصور میں ایک خواب ہے ایک کہانی ہے کہ دنیا میں ایک عظیم الشان سنہری زمانہ آ جائے گا جس میں ہر طرف امن ہو گا اور انسان اس جنت کو پالے گا جس کی خاطر غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔تو میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ وہ جنت تو قریب آ رہی ہے ، وہ اسلام کی فتح ہی کی جنت ہے مگر اس کے لئے ہر احمدی کو زبر دست تیاری کرنی پڑے گی اسی طرح ہر احمدی کو پھر حمد کے مضمون میں بھی داخل ہونا پڑے گا اس ارادے کے ساتھ کہ خدا کی خاطر مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو ادا کرنے کے لئے مجھے اپنے خیالات کو درست کرنا ہے، اپنے اخلاق کو سنوارنا ہے، اپنی عادات کو سنوارنا ہے، اپنے مزاج کو سنوارنا ہے اور یہ سب روز مرہ کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والے واقعات ہیں یہ کوئی فرضی حمد نہیں ہے کہ آپ نماز میں چند منٹ کے لئے تصوراتی حمد کر لیں اور پھر باہر آ کر بھول جائیں کہ آپ نے کیا کہا تھا۔حالانکہ تسبیح وتحمید کا مضمون اور برائیوں کو دور کرنے کا مضمون تو روز مرہ کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے، وہ خوابوں میں بھی ساتھ رہتا ہے، اٹھنے کے وقت بھی ساتھ رہتا ہے، جس وقت آپ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے، جس وقت آپ وضو کر رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے، جس وقت آپ معاملات کر رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے۔بیوی بچوں کے تعلقات میں بھی اور غیروں کے تعلقات میں بھی ساتھ ہوتا ہے۔غرضیکہ ہر روز انسان کی زندگی میں ایسے بے حد اور بے انتہا مواقع نظر آتے ہیں جہاں وہ اپنی بعض برائیاں دور بھی کر سکتا ہے، اگر وہ بیدار مغزی کے ساتھ اپنا مطالعہ کرے اور بعض وہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کر رہا ہوتا ہے مثلاً بول چال میں بد اخلاقی کو چھوڑ دیتا ہے، کلام میں تیزی اور مزاج میں درشتی کو نرمی میں بدل دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آج میں نے یہ برائی چھوڑ دی ہے، اب میں نے وہ برائی چھوڑ دی ہے۔اس طرح جب وہ خدا کی حمد کے گیت گائے گا اور اس کی صفات کے مضمون میں ڈوبے گا تو الہی صفات کے رنگ پکڑنا شروع کر دے گا اور اس طرح اخلاق کو درست کرنے کا اس سے بہتر طریق اور کوئی نہیں۔جب آپ کہتے ہیں الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ تو یہ حد ہی کا مضمون ہے۔اللہ رب العالمین ہے۔تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا ہے۔رب کا مطلب ہوتا ہے کہ جو بھی خدا کا فیض