خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 518

خطبات طاہر ۲ 518 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء اللہ تعالیٰ نے حمد کا پیغام دیا۔خدا کی حمد کے گیت گانے کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی گویا ہماری حمد کا پیاسا بیٹھا ہوا ہے کہ پہلے تسبیح کر دیں پھر حمد کر دیں تو اسے اس فتح کی جزامل جائے گی جو اس نے عطا کی ہے۔اگر کسی کے دماغ میں یہ خیال ہے تو نہایت لغو خیال ہے۔وہ تو تسبیح و تحمید سے بھی مستغنی ہے ، وہ تو ساری کائنات کا مالک ہے، انسان پیدا ہو یا نہ ہو، یہ زمین اور یہ زمانہ ہو یا نہ ہو وہ ساری کائنات پر حاوی ہے ، سارے زمانوں پر حاوی ہے۔یہ جو پیغامات دیتا ہے یہ ہمارے فائدہ کے لئے دیتا ہے۔فرماتا ہے جب خدا کی حمد میں داخل ہو گے تو یہ دعا کرنا جس سے تمہارے دل میں بے قرار تمنا خود بخو داٹھنے لگے گی۔اللہ کی ذات پر غور کرو گے اس کی صفات پر غور کرو گے تو پھر تمہارے دل سے یہ دعا نکلنی چاہئے کہ اے خدا ! جہاں بدیوں کا بائیکاٹ ہو جائے ، نہ وہ ہم سے لیں نہ ہم ان سے لیں ، وہاں حمد دونوں طرف سے بہنے لگے۔وہ اپنی خوبیاں لے کر ہمارے اندر داخل ہوں اور ہم اپنی خوبیاں ان کے اندر داخل کر رہے ہوں اور ایک عظیم الشان قوم وجود میں آ رہی ہو۔تو اسلامی فتح کا یہی وہ تصور ہے جسے احمدیوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ مجھے ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ انشاء اللہ بہت جلد فوج در فوج لوگ احمدیت میں داخل ہونے والے ہیں اور مشرق بعید میں خدا تعالیٰ نے نئی فتح کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ایسے دلوں میں انقلاب بر پا ہورہے ہیں کہ وہ سننے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔جب اسلام کا پیغام سنتے ہیں تو شکوے کرتے ہیں اور کہتے ہیں تم لوگ پہلے کہاں تھے ، ہمارے پاس کیوں نہیں آئے اس لئے میں نے سوچا کہ اس فتح نے تو آنا ہی آنا ہے۔اب یہ خدا کی تقدیر ہے جو لکھی گئی کوئی نہیں جو اس تقدیر کو بدل سکے۔آپ ان لوگوں کو محبت اور پیار کے ساتھ وصول کرنے کی تیاری کریں۔اپنے دل صاف کریں، اپنے اخلاق اور اطوار کو درست کریں، اپنے خیالات کو پاکیزہ بنائیں ، اپنے اعتقادات کی حفاظت کریں، آپ پر بہت بڑی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔آپ ان کے میزبان بننے والے ہیں اس لئے بدیوں کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط کریں تا کہ جب ان نئی قوموں سے آپ کا وسیع طور پر تعلق قائم ہو تو ان کی بدیوں کو رد کرنے والے ہوں اور اپنی بدیوں کو پہلے دور کر دینے والے ہوں یا استغفار کرتے ہوئے کم از کم ایسا انتظام کریں کہ وہ بدیاں ان میں داخل نہ ہوں، پھر حمد کے ترانے گائیں اپنے اندر خوبیاں پیدا کریں سلامی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر اس دنیا میں جنت پیدا کریں۔