خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 514

خطبات طاہر ۲ 514 خطه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء میسر آئے۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور جماعت کے لئے لوگوں کے دلوں کو نرم کر دیا انہوں نے ہمارے ساتھ بڑا تعاون کیا اور ان کے ذریعہ جماعت احمدیہ کا پیغام لکھوکھہا انسانوں تک پہنچا۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ بہت مصروف وقت گزرا۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ سوا مہینے میں کئی سال کے کام ہوئے اور کئی سال کے بعد واپس لوٹ رہا ہوں۔اصل بات تو یہی ہے کہ وقت گھڑی سے نہیں بلکہ واقعات سے جانچا جاتا ہے۔ایک ست انسان جس کی زندگی خالی ہوتی ہے وہ اگر سو سال بھی جئے تو عملاً ایک مصروف آدمی کی چند دن کی زندگی کے برابر زندہ رہتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اگر توفیق عطا فرمائے اور واقعات تیزی سے انسانی زندگی میں گزرنے لگیں تو بہت تھوڑے وقت میں یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ کئی سال گزر چکے ہیں۔آج صبح کی بات ہے میں کراچی میں ایک دوست کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی کی زندگی میں ایک ہزار آدمی سے ذاتی اور تفصیلی تعارف پیدا ہو جائے اور وہ گہرے طور پر ایک دوسرے کے واقف ہو جائیں اور ایک دوسرے سے مل کر ان کے اندر جذ باقی تعلق قائم ہو جائے اور آپس میں مودت کے گہرے رشتے پیدا ہو جائیں لیکن اس میں کوئی بھی مبالغہ نہیں کہ اس دورے میں کئی ہزار دوستوں سے گہرا تفصیلی تعلق قائم ہوا، محبت کے رشتے قائم ہوئے ، بچوں کے ساتھ بھی ، بڑوں کے ساتھ بھی اور ہم نے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھا اور سمجھا۔پس باقی ساری باتیں اگر چھوڑ بھی دیں تب بھی صرف یہی پہلو بہت وزنی ہے اور اتنی مصروفیت رہی ملاقاتوں کے لحاظ سے ہی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ سفر پر نکلے ہوئے مدتیں گزرگئی ہیں۔فلم کی طرح چہرے سامنے آتے رہے اور پھر چہروں سے آگے بات بڑھی اور روحوں سے شناسائی ہوئی ، محبت اور مودت کے تعلقات قائم ہوئے ، ان کا بھی ایمان بڑھا، ان کو دیکھ کر اور مل کر میرے ایمان میں بھی رونق آئی۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا اور میرے ساتھیوں کا سارا وقت بہت مصروف رہا اور اس احسان کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔زبان میں طاقت نہیں کہ کما حقہ شکر ادا کر سکے مگر یہ صرف میرے لئے شکر کا مقام نہیں ہے بلکہ ساری جماعت کے لئے شکر کا مقام ہے کیونکہ میں اپنی ذاتی حیثیت میں تو یہ دورہ نہیں کر رہا تھا نہ میرے ساتھی ذاتی حیثیت میں میرے ساتھ تھے۔اللہ تعالیٰ کے احسانات ساری جماعت پر ہیں۔