خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 511

خطبات طاہر جلد ۲ 511 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء سے انسان ڈرتا ہے۔ایک ایسا اطمینان نظر آتا ہے دنیا پر اور دین سے ایسی لا پرواہی نظر آتی ہے کہ وہ مستقبل کے معاملہ میں انسان کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔اصل اطمینان وہی ہے جو دین کی پیروی کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔جو لوگ دنیا پر مطمئن ہونے لگ جائیں خدا اور خدا کا دین ان کے ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔وہ پھر اپنے لئے کوئی اور خدا بنا لیتے ہیں اس لئے اپنے بچوں کی حفاظت کریں، اپنی بیویوں کی ، اپنی بیٹیوں کی اپنی بہنوں کی حفاظت کریں۔اپنی ماؤں کو سمجھانا پڑے تو ان کو بھی سمجھائیں کہ تم خدا کے ہوکر رہو، اللہ سے پیار کرو اور اس بات کی حفاظت کرو کہ خدا تمہیں کبھی کسی اور کی غلامی میں نہ جانے دے۔تم سب دعائیں کرو کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں دعاؤں سے ملتی ہیں۔اب تمہیں بہت کثرت سے دعائیں کرنی پڑیں گی۔آج میں نے بھی بہت دعا کی ہے خاص طور پر آپ سب کے لئے کہ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو جس کا آج سنگ بنیا درکھا جانے والا ہے ایسے لوگوں سے آباد کرے جو مسجد کی آبادی کا حق رکھتے ہیں، جن کو مسجد میں آباد کرنا آتا ہے، جن پر خدا کے پیار کی نظر پڑتی ہیں اور دن بدن یہ آبادی بڑھتی رہے اور جلد وہ وقت آئے جب یہ مسجد آپ کو چھوٹی نظر آنے لگے۔پھر یہ فکر پیدا ہو کہ اس مسجد کو کس طرح بڑھانا ہے۔اس لئے اب اس مسجد کے سنگ بینا در کھنے کے وقت سے آپ سب کی ذمہ داری غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔اب آپ ہی یہاں خدا کے نمائندہ ہیں۔آپ ہی وہ لوگ جنہوں نے خدا کی عبادت کا حق ادا کرنا ہے اور عبادت کو قائم رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین روز نامه الفضل ربوه ۲۲ نومبر ۱۹۸۳ء)