خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 482
خطبات طاہر جلد ۲ 482 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۳ء طاقتوں کے اندر بھی تم ایک ہی ہستی کی طاقتوں کو کار فرما دیکھو گے۔ایک ہی طاقت ان چیزوں کے پس پردہ تم کو عمل کرتی ہوئی نظر آئے گی اور وہی خدا ہے جس کی قدرت ان سب چیزوں کے پیچھے کارفرما ہے۔اسی طرح انسانی اعمال کے پیچھے بھی ایک ہی خدا ہے۔بدوں کا بھی ایک خدا ہے اور نیکوں کا بھی وہی ایک خدا ہے۔رہا یہ امر کہ نیکی اور بدی کی جدو جہد کیوں پیدا کی ؟ فرمایا اس لئے پیدا کی تاکہ تمہیں نیک اعمال کے امتحان میں ڈالا جائے اور جد و جہد میں پڑھ کر تمہارے اخلاق اور تمہارے اعمال اور تمہاری سمجھ اور عقل میں ایک چمک پیدا ہونی شروع ہو جائے کیونکہ نئی چمک نئی کوشش کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔بڑا مرتبہ بار بار کی جدو جہد سے حاصل ہوتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف قرآن کریم توجہ دلانا چاہتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم کہیں غلطی نہ کر جانا کہ تم کئی خداؤں کی پیداوار ہو۔ایک ہی خدا نے تمہاری خاطر یہ کیا ہے تاکہ تمہیں پہلے سے بہتر بناتا چلے جائے۔اس بات کو اگر آپ دنیا پر پر کھ کر دیکھیں تو ہر جگہ اس کی صداقت واضح اور نمایاں طور پر آپ کو نظر آ جائے گی۔ایک آدمی ہے جو ست ہے اور نکما ہے گھر پر لیٹا رہتا ہے اس کا جسم اگر بڑا بھی ہو پہلے سے تو لیٹے رہنے سے اور زیادہ پھولنا شروع ہو جائے گا لیکن اس میں طاقت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔جو وزن وہ پہلے اٹھاتا تھا اس پر کچھ اور وزن بھی لد جائے گا اور اس کے عضلات کی طاقت کمزور ہونی شروع ہو جائے گی یہاں تک کہ وہ اس حال کو بھی پہنچ سکتا ہے کہ اس کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہو جائے ، چار قدم چلے اس کو سانس چڑھ جائے۔اس کے برعکس اس سے نسبتاً کمزور آدمی جو ورزش کرتا ہے وہ جد و جہد کرتا ہے، وہ مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے، وہ اپنے نفس کو خود مصیبت میں ڈالتا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ دن بدن وہ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوتا چلا جاتا ہے۔اس کے زائد بوجھ اترتے چلے جاتے ہیں اور جو کچھ باقی رہ جاتا ہے وہ محض طاقت ہوتی ہے۔حالانکہ اگر واقعہ آپ دیکھیں تو جو آدمی لیٹا ہوا تھا اس نے بظاہر موت سے بچنے کی کوشش کی ہے اور جو آدمی جدو جہد کر رہا تھا ، کوشش کر رہا تھا، محنت کر رہا تھا ، اس نے موت کے منہ میں چھلانگ لگائی ہے۔یہ ہے وہ مضمون جس کو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے کہ موت کے منہ میں چھلانگ لگائے بغیر تمہیں زندگی مل نہیں سکتی۔اگر کوئی زندگی مل سکتی ہوتی تو خدا تمہیں اس کے بغیر دیتا لیکن جس طرح خدا نے تمہیں پیدا کیا ہے تمہارے لئے جد و جہد لازمی ہے تم اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو موت سے ٹکرا کر تمہیں زندگی ملے گی۔اس کا چیلنج