خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 473
خطبات طاہر جلد ۲ 473 خطبه جمعه ۹ ر ستمبر ۱۹۸۳ء ہیں جو وہ عطا کرتی ہیں۔اس کے مقابل پر صرف ایک ہی چیز ہے جس میں آپ کو برتری حاصل ہوسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ حقیقتاً خدا کے ہو جائیں اور خدا سب کچھ آپ کا بنادے پھر دنیا کی کوئی قوم بھی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور یہ جوغنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے اس کا آغا ز صرف مذہبی دولت سے ہوتا ہے، خدا کو پالینا مقصود ہوتا ہے اور خدا کو پالینے والے بندے بڑی جرأت اور طاقت کے ساتھ اور بڑی قوت کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں۔خدا ہمارے ساتھ ہے اس لئے جس کو دین چاہئے وہ بھی ادھر آئے اور جس کو دنیا چاہئے اس کو بھی ادھر آئے بغیر چارہ نہیں کیونکہ ہم خدا کے نمائندہ بن چکے ہیں۔لیکن اس اعلان کے باوجود کہ اب خدا بھی یہیں ملے گا اور خدا کی بنائی ہوئی طاقتیں بھی، غرض ہر چیز یہیں حاصل ہوگی اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس رستے میں ایک آزمائش کا نظام مقرر فرما دیا تا کہ جو خدا کے فضلوں کو لینے والے ہوں وہ تو داخل ہوسکیں اور جو محض دنیا کی لالچ میں آنا چاہیں ان کے لئے روک بن جائے۔چنانچہ شرط یہ رکھی کہ پہلے اللہ کا فضل حاصل کرو دنیا بعد میں آئے گی اور اللہ کو پانے کی شرط یہ ہے کہ جو دنیا تمہیں حاصل ہے وہ بھی خدا کی خاطر لٹا دو پھر خدا ملے گا، اس کے بغیر سودا نہیں ہو سکتا۔جب یہ اعلان ہورہا ہو کہ جو ہاتھ میں ہے وہ دے دو پھر ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں بعد میں بہت کچھ دیا جائے گا تو صرف وہی آدمی داخل ہوسکتا ہے جس کو کامل یقین ہو کہ وعدہ کرنے والا بھی موجود ہے اور عطا کرنے والا بھی موجود ہے ورنہ جس کو کسی غائب پر ایمان نہ ہو یا کسی ایسی ہستی پر ایمان نہ ہو جو آنکھوں سے نظر نہیں آ رہی وہ اس کے خیالی وعدے پر اپنے ہاتھ کی دنیا کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ایسی دنیا دار قوموں کے محاورے تو ان قوموں کے محاوروں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو خدا پر اور غیب کی چیزوں پر ایمان لانے والی ہوتی ہیں۔یہ لوگ تو یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ۔bird in hand is better than two in a bush اور خدا والے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبه (1) کہ اے دنیا والو! تم تو ایک پرندہ کا دو پرندوں کے ساتھ تبادلہ بھی قبول نہیں کر سکے اگر وہ وعدہ دور کا ہو لیکن ان لوگوں کا یہ حال ہے اور ان کا ایمان اتنا بلند ہو چکا ہے کہ یہ اپنی جان بھی پیش کر دیتے ہیں ، یہ اموال بھی پیش کر دیتے ہیں اس جنت کے لئے جو دینے والے کی طرح خود غائب ہے اور اس سے آپ اندازہ کریں کہ ایسے لوگوں میں کتنی عظیم الشان