خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 472
خطبات طاہر جلد ۲ 472 خطبہ جمعہ ۹ر ستمبر ۱۹۸۳ء یہ نہیں ہے کہ گمراہ خالہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی چیز کی محبت اور تلاش میں اپنے وجود کو بھی کھو ڈالے یعنی دنیا وما فیہا سے بے خبر ہو جائے اور وہ جذبہ اس پر اس قدر غالب آجائے کہ اور کسی چیز کی اسے ہوش نہ رہے۔لیکن عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو نے ہمیں تلاش کیا، تو ہماری محبت میں سرگرداں تھا جب ہم نے تیرا مقصد تجھے عطا کر دیا ، ہم تجھے مل گئے ، تجھے اپنی طرف ہدایت دے دی تو ہم نے دیکھا کہ تو تو بڑا عیال دار ہے تو نے سوال کو پھیلا دیا ہے سارے بنی نوع انسان کے لئے اور کہا اے خدا ! میں اکیلا تو نہیں ہوں ، نہ میں اکیلے لے کر راضی ہوں گا، میں تو سب دنیا کا ہوں اور بہت بڑا عیال دار ہوں، ساری کائنات کے لئے مانگنے آیا ہوں۔پھر خدا نے آپ سے عجیب سلوک فرمایا۔خدا نے آپ کو کہا کہ اے محمد ! تو تو ایک بندہ ہے بندہ ہو کر تیرا دل اتنا وسیع ہے کہ اپنے سارے بھائیوں کو ،سارے زمانہ کے انسانوں کو اس نعمت میں شریک کرنا چاہتا ہے جو میں نے تجھے عطا کی تو میں خالق اور مالک ہو کر تجھ سے پیچھے کیسے رہ سکتا ہوں۔فَاغْنی پھر خدا نے ایسا غنی کر دیا کہ کسی دوسری تعلیم کا محتاج نہیں رہنے دیا، کسی دوسری نعمت کا محتاج نہیں رہنے دیا، اور کہا کہ ہم تجھے کوثر عطا کرتے ہیں ایسے خزانے دیں گے جو بنی نوع انسان میں قیامت تک بانٹتے چلے جاؤ گے تب بھی ختم نہیں ہوں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں اس مضمون کی طرف اشارہ ہے کہ تم بھی دنیا کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے نکالے گئے ہو تم بھی بنی نوع انسان کو خدا کی طرف بلانے کے لئے نکالے گئے ہو ،لیکن پہلے خدا کے بنو گے تو پھر دنیا تمہاری ہوگی کیونکہ خدا کے بنے بغیر تم تہی دست کے تہی دست رہو گے۔دنیا یوں ہی تو کسی کی طرف توجہ نہیں کیا کرتی۔اب میں نے مثال دی تھی دنیوی قوموں نے ان لوگوں کو کچھ دیا ہے، ان کے پاس دولتیں ہیں، ان کے پاس مادی طاقتیں ہیں، اس کی خاطر دنیا ان کی طرف آئی۔تو خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی یہ جانتے تھے اس مضمون کو، آپ کو پتہ تھا کہ جب تک میرے پاس دولت نہیں ہوگی میں کیسے دنیا کو بلاؤں گا۔وہ دولت اپنے رب سے حاصل کی اور جب خدا نے آپ کو اتناغنی کر دیا، اتنا غنی کر دیا کہ اپنے زمانے کے انسان ہی نہیں بلکہ سارے زمانہ کے انسانوں کو دیتے چلے جائیں اور وہ دولت ختم نہ ہوتب پھر وہ دنیا کو بلانے کے لئے نکلے۔پس آپ کا مقابلہ بھی دنیا کی بہت بڑی بڑی قوموں کے ساتھ ہے اور وہ ساری قو میں کچھ نہ کچھ حرص اور کچھ نہ کچھ لالچ دے کر دنیا کو اپنی طرف بلا رہی ہیں اور وہ مادی دولتیں۔